خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 171 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 171

خطبات طاہر جلد اول 171 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء نئی زمین اور نئے آسمان کی حفاظت اور ہماری ذمہ داریاں ( خطبه جمع فرموده کیم اکتوبر ۱۹۸۴ء بمقام بلنکم بر طانیہ کے انگریزی متن کا تر جمعہ ) تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ الملک کی مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی: وَلَقَدْ زَيَّنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا بِمَصَابِيعَ وَجَعَلْنَهَارُجُوْمًا لِلشَّيْطِيْنِ وَاعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ (سورة الملك :) اس کے بعد فرمایا: انسان کی توجہ فطرت کے مطالعہ کی طرف پھیرنے کے لئے قرآن کریم کا یہ ایک طریق ہے۔مگر فطرت کا مطالعہ جس کی طرف انسان کی توجہ مبذول کروائی گئی ہے اپنی ذات میں مقصود نہیں ہے۔دراصل یہاں کچھ اور مراد ہے۔اللہ تعالیٰ دراصل انسان کی توجہ ایک روحانی عالم کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے اور فطرت کا ذکر بطور نمونہ بیان کیا گیا ہے۔جس کے مطالعہ سے ہم مخفی روحانی عالم کا اندازہ کر سکتے ہیں۔جو آیت میں نے ابھی تلاوت کی ہے وہ اس بات کی جو میں نے ابھی کہی ہے ایک مثال ہے۔بظاہر قرآن مجید میں آسمان کا ذکر کیا گیا ہے۔سب سے نچلے آسمان کا جس میں ایسے چراغ جڑے ہوئے ہیں جن کا مقصد شیطان کو بھگانا ہے۔جو آیت میں نے آپ کے سامنے ابھی تلاوت کی