خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 172

خطبات طاہر جلد اول 172 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء ہے اس میں انہی الفاظ میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔لَقَدْ زَيَّنَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيعَ ہم نے نچلے آسمان کو چراغوں سے مزین کیا ہے۔اس کا مقصد کیا ہے؟ جَعَلْنَهَارُجُوْمًا لِلشَّيْطِيْنِ ہم نے انہیں شیطانوں کو بھگانے کے لئے بنایا ہے۔وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ اور ہم نے سخت جلانے والی آگ ان کے لئے تیار کی ہے۔اب بظاہر قرآن کریم کا یہ مطلب نہیں ہے۔کیونکہ یہ آیت اس دنیا سے متعلق نہیں ہے جو ہم دیکھتے ہیں۔بلکہ اس سے مذہبی دنیا اور مذہبی عوامل مراد ہیں جو ہم سے مخفی ہیں۔کیونکہ ہم ظاہراً کوئی شیطان نہیں دیکھتے جنہیں شہاب ثاقب بھگا رہے ہوں اور نہ ہی ہمیں ایسے چراغ نظر آتے ہیں جو آسمان پر آویزاں ہوں۔چنانچہ ان لوگوں کے لئے جو قرآن کریم کا انداز سمجھتے ہیں واضح ہے کہ یہاں ذکر ایک بالکل مختلف بات کا ہورہا ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں تو بعض غیر مسلم اس پر اعتراض کرتے ہیں۔وہ یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ تم اپنے الفاظ قرآن کریم کے منہ میں ڈال رہے ہو کیونکہ اب دنیا سائنس کے میدان میں بہت ترقی کر گئی ہے اور نو جوان یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے الفاظ زمانی طور پر بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور قوانین قدرت کو غلط انداز میں بیان کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم پر اس قسم کے الزامات کا جواب دینے کے لئے تم مختلف قسم کے بہانے تراشتے ہو اور ہمیں یہ بتاتے ہو کہ سب مخفی سلسلے ہیں۔یہ محض روحانی امور ہیں۔مذہبی باتیں ہیں اور ان قوانین قدرت کا ذکر نہیں جو ہم دیکھتے ہیں۔اس سوال اور الزام کا کیا جواب ہے؟ یہ ایک بھاری اعتراض ہے اور اسلام کا دفاع عقل سے کرنا چاہئے نہ کہ اپنے اعتقاد اور تصورات کی بنیاد پر۔جولوگ قرآن کریم کا انداز بیان سمجھتے ہیں وہ یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے دفاع کے لئے باہر سے کسی مدد کی ضرورت نہیں۔قرآن اپنی اقدار کی خود حفاظت کر سکتا ہے اور باہر سے کسی مددکا محتاج نہیں۔بعض قرآنی آیات دوسری قرآنی آیات کی تفسیر کرتی ہیں اور ان کے معانی واضح کر دیتی ہیں۔چنانچہ جب ہم واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ ان آیات کا تعلق مذہبی امور سے ہے اور دنیا کے ظاہری قوانین سے نہیں تو ہمیں قرآن کریم سے اس بات کا ثبوت ملنا چاہئے تا کہ جب انسان کی توجہ