خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد اول 160 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء گھڑ لیں۔یہ آپ کی عادت تھی جس پر آپ بڑی سختی سے کاربند تھے کہ خود بخود آپ ایک لفظ بھی نہیں کہتے تھے۔آپ نے جو کچھ بھی بیان فرمایا وہ اللہ تعالیٰ سے علم پا کر یا قرآن کریم کی تفسیر میں بیان فرمایا اور بعینہ یہی بات قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ) (انجم ) - ۵) دیکھو میرا رسول محمد مصطفی عمل اللہ خود ایک لفظ بھی نہیں کہتا، جو کچھ بھی وہ کہتا ہے قرآن کریم کی بنا پر کہتا ہے۔چنانچہ ایسے رسول نے ہمیں دجال یا اینٹی کرائسٹ جو بھی کہہ لیس ، کی خبر دی ہے۔کسی کے ذہن میں یہ سوال آسکتا ہے کہ جب حضرت محمد مصطفی ﷺ خدا سے علم پا کر بولتے ہیں اور خود کچھ نہیں کہتے تو اس خبر کے بارہ میں قرآن کریم میں کوئی ذکر تو ملنا چاہئے۔اس سورۃ کی طرف جس میں دجال کا ذکر ہے آنحضور علیہ نے خود ہماری راہ نمائی فرمائی ہے۔جب آپ نے اپنے متبعین کو دجال سے ڈرایا تو صحابہ میں سے ایک نے پوچھا کہ اس پریشانی سے انسان بچ کس طرح سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ اسکا ایک ہی حل ہے کہ رات سونے سے قبل سورۃ کہف کی پہلی اور آخری دس آیات کی تلاوت کیا کرو۔اب آپ کی اس بات کا واضح مطلب ہے کہ اس جگہ دجال کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔اگر آپ سورۃ کہف کی پہلی اور آخری دس آیات پر غور کریں تو آپ کو اپنا دشمن نظر آنے لگے گا، اور ایک دفعہ دشمن کی شناخت ہو جانے اور اس کے حملہ آور ہونے کے طریق سے آگاہ ہونے کے بعد ہی اپنی حفاظت کے لئے دفاعی منصوبہ تیار کیا جاسکتا ہے۔جب تک اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ دشمن کون ہے اور کس راستہ سے وہ حملہ آور ہوگا، قدرتی طور پر آپ دفاع کر ہی نہیں سکیں گے۔چنانچہ آنحضور ﷺ نے واضح طور پر بتا دیا کہ دشمن کون ہے اور اسکا دفاع کیسے ممکن ہے۔سورۃ کہف کی پہلی دس آیات میں عیسائیت کا بیان ہے اور اس بارہ میں خدا تعالی متنبہ فرماتا ہے کہ کسی کو اسکا بیٹا قرار نہ دو کیونکہ اسکا کوئی بیٹا نہیں ہے۔وَيُنْذِرَ الَّذِينَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدَّانَ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِأَبَا بِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ۖ إِنَّ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا (الف:۲-۵)