خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 12
خطبات طاہر جلد اول 12 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء آپ نے بھی ایک آنکھ سے چاند کو دیکھا ہے اور دیکھتے ہیں۔آپ کا بھی ایک نتیجہ ہے اور سائنسدان جو خلائی امور سے واقف ہیں اور زیادہ گہری بصیرت سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے بھی اجرام فلکی کو دیکھا ہے۔جس طرح آپ مائی کے علم پر ہنسے وہ لوگ آپ کے علم پر ہنستے ہیں۔اور علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ان کے علم پر مسکراتا ہوگا کہ کیسے دعوے کرتے ہیں بڑے بڑے علوم کے ،حقیقت حال کا ان کو کچھ علم نہیں۔غالب نے اپنے زمانے میں اس پر غور کیا تو ایک شعر میں اس صورت حال کو بیان کیا کہ آتے ہیں۔ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں دھوکہ بازی گر کھلا کھلا کھلا دھوکہ ہے۔صاف نظر آ رہے ہیں۔لیکن پھر ہیں کچھ اور وہ نہیں ہیں جو ہمیں نظر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کی اس سورۃ کی تفسیر میں اس امر کا ذکر فرمایا ہے۔(کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 ص53) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَا أُقْسِمُ بِمَوقِعِ النُّجُومِن وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْتَعْلَمُونَ عظيم (الواقعہ: ۷۲۷۷) که خبر دار! میں ستاروں کے مواقع کی قسم کھا کر کہتا ہوں، ان کو گواہ ٹھہراتا ہوں وَ إِنَّهُ لَقَسَم لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظیم اگر تمہیں کنہ ہوتی واقفیت ہوتی ، ستارے چیز کیا ہیں اور ان کے مواقع کیا ہیں تو تب تم جانتے کہ یہ بہت بڑی قسم ہے۔بہت زبر دست گواہی دی گئی ہے۔یہ گواہی کیا ہے، یہ ایک تفصیلی مضمون ہے جس کا فی الحال میرے مضمون سے تعلق نہیں۔میں صرف یہ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان عُلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ کی اس صفت سے واقف ہو جائے تو کسی تکبر، کسی خود اعتمادی کا کوئی سوال نہیں رہتا۔کامل بجز اور کامل انکسار کے ساتھ انسان خدا کے حضور جھکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اور اگر انسان کامل تو کل اور کامل انکسار کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکنا سیکھ جائے تو بہت سی اندرونی کمزوریاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو جاتی ہیں اور وہ روحانی شفا پانے کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔اس لئے اپنے اندر وہ انکساری پیدا