خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 11
خطبات طاہر جلداول 11 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء مکانی اعتبار سے بھی یہی کیفیت ہے۔اگر مکانی اعتبار سے یہ کیفیت نہ ہوتی یعنی ایک زمانے میں جوموجودات ہیں ان پر یہ بات اطلاق نہ پاتی تو زمانی اعتبار سے بھی یہ بات غلط ثابت ہوتی لیکن اس تفصیل میں میں جانا نہیں چاہتا۔میں ایک مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہم دیکھ رہے ہیں اس میں سے کسی چیز کے متعلق ہم کامل اعتماد کے ساتھ کامل یقین کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اسے صحیح دیکھا جیسا وہ اصلی حالت میں موجود تھی۔اگر بینائی نہ تبدیل ہو تو مزاج کے بدلنے سے بھی چیزوں کی کنہ میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔جو ہم اخذ کرتے ہیں اس کے تصور میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔موسم کے بدلنے سے تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔دن رات کے بدلنے سے، روشنی کے کم یا زیادہ ہونے سے تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے اور اس چیز کی اندرونی کیفیات بدلنے سے بھی تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔اس کا اپنا درجہ حرارت کیا ہے؟ وہ اس وقت کثافت کے کس معیار پر ہے؟ بہت سے ایسے امور ہیں جن کے اوپر اگر آپ غور کریں تو سارا نظام شہادت غیر یقینی ہو جائے گا۔چنانچہ ستاروں کو آپ دیکھیں کہ مختلف زمانوں میں مختلف وقت میں انہی آنکھوں سے انسان نے ستاروں کا مشاہدہ کیا۔اجرام فلکی کو دیکھا لیکن بالکل مختلف نتائج پیدا کئے۔آج کے زمانے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ظاہری آنکھ سے اسی چیز کو دیکھ رہے ہیں جس چیز کو آپ اور میں دیکھ رہے ہیں لیکن نتیجہ مختلف اخذ کر رہے ہیں۔ایک دفعہ، دیر کی بات ہے پندرہ بیس سال کی ، چاندنی رات میں باہر گرمیوں میں ہم لیے ہوئے تھے ، ہونے کی تیاری کر رہے تھے تو بچوں نے ہماری جو مائی ہے اس سے باتیں شروع کر دیں۔بچوں کو میں چاند سورج ستاروں وغیرہ کے متعلق چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی شکل میں سبق دے رہا تھا تو ان کو خیال آیا کہ ہمیں تو بڑا اعلم آ گیا ہے۔پس مائی سے ایک بچے نے پوچھا کہ بتاؤ چاند کتنا بڑا ہوگا؟ اس نے کہا بہت بڑا ہے۔کہا پھر بھی بتاؤ تو سہی۔اس نے کہا فٹ بال سے تو بڑا ہے۔بچے ہنس پڑے، تو اس پر مائی کو خیال آیا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔اس سے بھی زیادہ بڑا ہے تو کہنے لگی کہ نئیں ویڑے جڑاتے ہوئے دا۔یعنی ہمارے گھر کا جو محن ہے دو کنال میں کوٹھی بھی بنی ہوئی ہے اور چھوٹا سا ایک صحن ہے پچھلا۔اتنا تو ہوگا۔پھر بچوں کی ہنسی نکل گئی۔تو کہتی دنئیں نہیں میں دسنی آں کلا دو کلے ضرور ہوئے گا یعنی ایک دوا یکڑ کے برابر۔اس سے زیادہ وہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھی۔