خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 145
خطبات طاہر جلد اول 145 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء رہے گا۔اگر یہ احساس مٹ گیا اور ہم غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ یہ گویا ہماری ہی ہوشیاریوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے تو برکتیں چھینی جائیں گی۔پھر ڈرتے کس بات سے ہیں؟ خدا کی راہ میں دینے والے کبھی خالی نہیں رہے۔رازق وہ ہے۔وہ تو محبت اور پیار کے اظہار کے طور پر آپ کے دلوں کو پاک وصاف کرنے کے لئے آپ سے مانگتا ہے والله الغَنِيُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ (محم:۳۹) قرآن کریم فرماتا ہے کہ اللہ تو غنی ہے اس نے تمہیں سب کچھ دیا تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے تو اس نے تمہارے لئے سارے انتظام کر دیئے تھے۔ساری کائنات کا مالک ہے اس کے خزائن کبھی ختم نہیں ہوتے۔اسی کی رحمتوں اور برکتوں کے طفیل انسان رزق پاتا ہے اور رزق سے برکتیں حاصل کر سکتا ہے۔ورنہ ایسے رزق والے بھی ہم نے دیکھے ہیں کہ دلوں میں جہنم لئے پھرتے ہیں کوئی رزق ان کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس خدا سے تعلق جوڑنے کے بعد پھر منہ موڑنا، یہ کہاں کی عقل ہے۔یہ تو خودکشی ہے اس لئے محبت اور پیار سے سمجھا ئیں۔میں نے تو بار ہا یہ اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اتنا نہیں دے سکتا جو شرح کے مطابق ضروری ہے تو صاف کہے، اپنے حالات پیش کرے۔چندہ عام ہے وہ خلیفہ وقت معاف کر سکتا ہے اور میں کھلا وعدہ کرتا ہوں کہ جو دیانتداری سے سمجھتا ہے کہ میں نہیں پورا اتر سکتا، میری شرح کم کر دی جائے ،اس کی شرح کم کر دی جائے گی۔لیکن جھوٹ نہ بولیں خدا سے یہ نہ ہو کہ خدا کروڑ دے رہا ہو اور آپ لاکھ کے اوپر چندے دے رہے ہوں اور بتا یہ رہے ہوں کہ دیا ہی خدا نے لاکھ ہے۔اللہ کوئی بھول جاتا ہے(نعوذ باللہ من ذلک) کہ میں نے اس کو کیا دیا تھا اور اب یہ مجھے کیا واپس کر رہا ہے۔جس نے دیا ہے وہ تو دلوں کے بھیدوں سے آشنا ہے۔وہ مخفی ارادوں سے آشنا ہے وہ ان بنک بیلنسز سے آگاہ ہے جن میں روپے جاتے ہیں اور غائب ہو جاتے ہیں اور تسلی نہیں پاتا انسان اور بڑھانا چاہتا ہے تو جو ضرورت مند ہے اس کی ضرورتوں کی فکر کی جائے گی۔اس کی ضرورت کا لحاظ کیا جائے گا۔اس کو خوشی سے اجازت دی جائے گی بلکہ ایسا ضرورت مند احمدی جو چندہ نہیں دے سکتا، امداد کا مستحق ہے، جماعت کا کام ہے جہاں تک ممکن ہو اس کی امداد کرے۔لیکن خدا سے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اس لئے ایک مہلت میں دیتا ہوں اس خیال سے کہ ہمارے بھائی ضائع نہ ہوں۔مجھے اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ خدا کے کام کیسے پورے ہوں گے۔اگر میں یہ فکر کروں تو مشرک