خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد اول 144 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء کر آگے بڑھ جائیں گے تو خدا کا کام ہے، وہ ضرور پورا ہوگا۔یہ قافلہ تیز قدموں کے ساتھ آگے بڑھ جائے گا۔لیکن یہ اور ان کی اولادیں پھر دنیا میں جذب ہو جائیں گی۔ان کا کوئی سہارا نہیں رہے گا باقی۔اس لئے انسانی ہمدردی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو ساتھ شامل کیا جائے۔اس لئے وہ سارے جو آج اس خطبے میں شامل ہیں وہ اپنے اپنے ماحول میں جا کر اس بات کے مبلغ بنیں کہ پہلے جو کمزور ہیں ، جو خدا کی راہ میں خرچ سے ڈر رہے ہیں، ان کو بتایا جائے کہ تم محروم ہورہے ہو۔نیکیوں سے بھی محروم ہورہے ہو اور خدا کے فضلوں سے بھی محروم ہور ہے ہو۔اس دنیا سے بھی محروم ہور ہے ہو جس کے پیچھے تم پڑے ہوئے ہو۔تمہارے روپوں میں برکت نہیں رہے گی۔تم اپنی اولادوں کی خوشیوں کو نہیں دیکھ سکو گے۔ان سے محروم کئے جاؤ گے۔تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لذتیں نکل جائیں گی تمہارے دلوں سے اور ان کی جگہ غم اور فکر لے لیں گے۔یہ تقدیر ہے ان احمدیوں کیلئے جو احمدیت کو چھوڑ کر دور جارہے ہیں۔یہی ہم نے دیکھا ہے ہمیشہ۔اور جو خدا کی راہ میں قربانی کرتے ہیں اللہ ان کی قربانی رکھا نہیں کرتا۔کون سا قربانی کرنے والا آپ نے دیکھا ہے جس کی اولا دفاقے کر رہی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان دیکھیں خدا نے فضل کئے ہیں۔مگر اس وقت تک یہ فضل ہیں جب تک کوئی سمجھے کہ کس کی بناء پر ہیں۔اگر کسی دماغ میں یہ کیڑا پڑ جائے کہ میری کوشش ہے، میری چالا کی ہے، میرے ہاتھ کا کرتب ہے تو بڑا بیوقوف ہوگا۔یہ ان چند روٹیوں کے طفیل مل رہا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا کی راہ میں قربان کی تھیں۔ابھی نبوت بھی عطا نہیں ہوئی تھی کہ جو کچھ تھا خدا کو پیش کر بیٹھے۔یہ اسی کا صدقہ ہے جو کھایا جا رہا ہے۔صرف وہی نہیں سینکڑوں احمدی خاندان ہیں جو اسی قسم کا قربانیوں کا پھل کھا رہے ہیں۔ان کے والدین یا ان کے ماں باپ نے بڑے بڑے مشکل حالات میں گزارے کئے۔جو کچھ میسر تھا جو کچھ وہ بچا سکے خدا کے حضور پیش کر دیا اور آج اولادیں ہیں کہ پہچانی نہیں جاتیں۔کہاں سے آئی تھیں۔کہاں چلی گئیں۔ان کے پیچھے رہنے والوں کو دیکھیں جو محروم تھے ان سب قربانیوں سے۔ان کی شکلیں اور ہیں، ان کے ماحول اور ہیں، ان کی عقلیں اور ہیں، ان کے علم اور ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے والوں کی اولا دوں کو خدا نے اتنی برکت دی۔مگر پہچاننے کی ضرورت ہے، احساس کی ضرورت ہے جب تک یہ احساس زندہ رہے گا یہ قافلہ آگے بڑھتا