خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 138
خطبات طاہر جلد اول 138 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء ایک دو ماہ پہلے کی بات ہے ایک شخص نے بڑا ہی متکبرانہ خط مجھے لکھا اور اس میں ان کے یعنی برادرم کرم الہی صاحب ظفر کے متعلق ایسے لفظ استعمال کئے جس سے میرا دل پھٹ گیا۔اس کو اپنے علم کا زعم تھا۔اس کو خیال تھا کہ ان کا علم کچھ نہیں۔اس کو اپنی شکل وصورت کا زعم تھا اور خیال تھا کہ اس کے مقابل پر ان کی شکل وصورت کچھ نہیں۔لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں رکھتے لیکن اللہ کے پیارا اور محبت کی نظریں ان پر پڑتی ہیں۔میرا دل غم سے پھٹ گیا اور استغفار کی طرف اس کے لئے مائل ہوا اور ساتھ ہی مجھے وہ واقعہ یاد آ گیا جبکہ مدینہ کے بازار میں حضرت محمد مصطفی علی ایک غلام کو بیچ رہے تھے۔وہ ایسا غلام تھا جس کے کپڑوں میں سے بدبو آتی تھی۔دن بھر کی محنت اور مشقت سے پسینے سے شرابور اور آلودہ لباس میں وہ ملبوس تھا۔انسان اس کی بدصورتی کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے کوئی اس کو اپنی لڑکی دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔آنحضرت ﷺ کا وہاں سے گزر ہوا۔آپ نے اپنی الہی بصیرت سے اس کے دل کی کیفیت کو بھانپ لیا اور پیچھے سے جا کر پیار سے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے۔جس طرح بعض دفعہ مائیں بچوں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ بتاؤ میں کون ہوں؟ وہ جانتا تھا اور یقیناً جانتا تھا کہ محمد مصطفی علی اللہ کے سوا کوئی ایسا حسین اخلاق کا مالک نہیں جو مجھ سے ایسے پیار کا اظہار کرے۔لیکن اس کی زندگی میں ایک ایسا عجیب موقع تھا کہ وہ اس کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔جان بوجھ کر، پہچاننے کے باوجود اپنے جسم کو حضور ا کرم کے جسم سے رگڑنا شروع کیا۔اپنے ہاتھوں کو آپ کے جسم کے زیر و بم پر پھیرنا شروع کیا اور بہت ہی پیار کا اظہار ، جس طرح بعض دفعہ بلی ، آپ نے دیکھا ہے ، لحاف میں گھس کر پیار کرتی ہے اور اپنے بدن کو رگڑتی ہے انسان کے ساتھ ، اس طرح اس نے اظہار محبت شروع کر دیا۔پھر جب حضور نے پوچھا بتاؤ میں کون ہوں؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کے سوا ہو کون سکتا ہے۔آپ ہی تو ہیں۔تب آنحضور ﷺ نے فرمایا میں ایک غلام بیچتا ہوں۔ہے کوئی لینے والا ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے کون خریدے گا۔لوگوں کی نفرت کی نگاہیں مجھ پر پڑتی ہیں اور شدت نفرت سے لوٹ جاتی ہیں واپس دیکھنے والے کی طرف۔مجھ پر ٹھہر نہیں سکتیں۔مجھے کون خریدے گا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، تمہارا ایک گا ہک ہے۔میرا آسمانی آقا۔میرا خدا تمہارا گا ہک ہے۔(الاستیعاب جز 2 صفحہ 509 باب زاهر بن حرام) پس بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے ، دنیا کی نگاہیں صلى الله