خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 137
خطبات طاہر جلد اول 137 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء جو ہمیشہ کے لئے میرے دل پر نقش ہو گیا۔ایک معمولی چھوٹی سی ریڑھی تھی جس پر خود عطر بنا کر ، وہ عطر بیچ کر اپنا گزارہ بھی کرتے تھے اور تبلیغ کا کام بھی کرتے تھے۔۱۹۵۷ء کی یہ بات ہے مجھے اور برادرم عزیزم میرمحموداحمد صاحب کو یہاں آنے کا موقع ملا۔وہ ایسی ریڑھی تھی جس کو بعض دفعہ رکھنے کی جگہ بھی میسر نہیں آتی تھی۔دشمنوں کو پتہ چلتا تھا تو اس کو توڑ جاتے تھے۔بعض رحمدل دکاندار بعض دفعہ ان کو جگہ دیدیتے تھے۔پھر کچھ دیر کے بعد وہ جگہ چھوڑ کر کوئی اور جگہ تلاش کرنی پڑتی تھی۔طریق تبلیغ یہ تھا کہ وہی عطر بیچ کر اپنے گزارہ بھی کرتے تھے اور اس سے بچی ہوئی رقم ، اپنی طرف سے ، وہ لٹریچر کیلئے پیش کیا کرتے تھے۔ایسے وقت بھی آئے جب کہ ان کے گھر پر بھی حملے ہوئے۔وہ جو بورڈ لگا ہوا تھا اس کے اوپر پتھروں کے نشان ہم نے خود دیکھے۔چھپ چھپ کر اصحاب کہف کی طرح وہ ابتدائی احمدی ، جنہوں نے ان مخالفانہ حالات میں احمدیت کو اور اسلام کو قبول کیا، وہ اکٹھے ہوا کرتے تھے۔دشمن مخبری کرتے تھے لوگ حملہ کر کے آتے تھے اور وہ بڑی مصیبت اور بڑی مشکل سے اپنی عزتیں اور جانیں بچاتے تھے۔عطر کے ساتھ انہوں نے ایک چھوٹا سا سپرے پمپ رکھا ہوا تھا۔جب ہم وہاں پہنچے تو انہوں نے ہمیں بتایا کہ دیکھو! اس طرح تبلیغ کرتا ہوں۔پمپ سے سپرے کرتے تھے اور کچھ لوگ اکٹھے ہو جاتے تھے شوق اور تعجب میں۔مشرقی قسم کی خوشبو سے ویسے بھی ایک خاص دلچپسی پیدا ہو جاتی تھی۔اور سپرے کرتے ہوئے اس وقت جو ہم نے نظارہ دیکھا وہ یہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ دیکھو! یہ کتنی اچھی خوشبو ہے۔لیکن یہ خوشبو تو زیادہ دیر تمہارے ساتھ نہیں رہے گی۔یہ تو کپڑوں میں رچ بس کے بھی آخر دھل کر ضائع ہو جائے گی۔ایک دو دن ، چار دن کی بات ہے۔میرے پاس ایک اور عطر بھی ہے۔ایک ایسا عطر جس کی خوشبو لا فانی ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوگی۔اس دنیا میں بھی تمہارا ساتھ دے گی اور اُس دنیا میں بھی تمہارا ساتھ دے گی۔اگر چاہتے ہو کہ اس خوشبو سے متعلق مجھ سے کچھ معلومات حاصل کرو تو یہ میرا کارڈ ہے۔جب چاہو آؤ۔مجھے ملو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ وہ خوشبو کیا ہے اور کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ بہت سے لوگ وہ کارڈ لیتے تھے۔کچھ عطر خرید کر الگ ہو جاتے تھے۔اس طرح تبلیغ کے رستے نکلتے تھے۔پس یہ ساری وہ قربانیاں ہیں جو اس موقع پر از خود مجھے یاد آ رہی ہیں اور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ جماعت کو بھی ان سے آگاہ کروں اور اس طرف توجہ دلاؤں کہ اپنی دعاؤں میں ان کو نہ بھولیں۔