خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 136
خطبات طاہر جلد اول 136 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء - الثالث نور اللہ مرقدہ) کی یاد جو آج ہم میں نہیں۔جو سب سے زیادہ اس بات کا حقدار تھا کہ آج یہ جمعہ پڑھا تا اور آج اس تقریب کا آغاز کرتا۔اس کی وہ بیقرار دعا ئیں جن کی قبولیت کا پھل ہم آج کھانے لگے ہیں، وہی دعائیں ہیں جنہوں نے سپین کی تقدیر کی کایا پلٹی ، جنہوں نے اہل سپین کو بھی آزادی نصیب کی۔اور اسی آزادی کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس مسجد کی تعمیر کی توفیق بخشی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا تھا یہ بھی ایک خوشی کا وقت ہے۔آپ کی یاد بھی ایک خوشی کی یاد ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں اور اپنے رب کے حضور التجا کرتے ہیں کہ آج آپ کی روح سب سے زیادہ ایسے نظاروں سے لذت یاب ہو رہی ہوگی۔مسجدوں کی تعمیر ایک بہت ہی مقدس فریضہ ہے۔لیکن جو مسجد میں ہم بنا رہے ہیں یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جیسا کہ عام طور پر دنیا میں ہوتا ہے۔ان مسجدوں کے پس منظر میں لمبی قربانیوں کی تاریخ ہے۔یہ کچھ امیر لوگوں کی وقتی کوشش یا جذباتی قربانی کا نتیجہ نہیں ، کچھ ایسے لوگوں کی جن کو خدا نے زیادہ دولت بخشی ہو اور وہ نہ جانتے ہوں کہ کہاں خرچ کرنی ہے۔بلکہ خصوصاً اس مسجد کے پیچھے تو ایک بہت ہی لمبی ، گہری ،مسلسل قربانیوں کی تاریخ ہے۔اور اس موقع پر اگر ہم ان کو یاد نہ کریں اور ان لوگوں کو اپنی دعاؤں میں شامل نہ کریں جو اس مسجد کے پس منظر میں خاموشی سے کھڑے انکسار کے ساتھ اپنے رب کے حضور دعا گو نظر آ رہے ہیں تو یہ ناشکری ہوگی۔میری مراد برادرم مکرم کرم الہی صاحب ظفر اور ان کے خاندان کی قربانی سے ہے۔ایک لمبا عرصہ اس خاندان نے سپین میں دن رات احمدیت کی خدمت کے لئے سر توڑ کوشش کی۔ایسے وقتوں میں جب کہ یہاں کی حکومت اتنی سنگدل اور سخت تھی کہ دوسرے عیسائی فرقوں کو بھی اجازت نہیں تھی کہ وہ یہاں تبلیغ کرتے۔اس زمانے میں جب کہ کوئی ذریعہ نہیں تھا جماعت کے پاس ان کی مدد کا، مالی حالات کی تنگی بھی تھی اور قوانین کی روک بھی رستے میں حائل تھی اور ممکن نہیں تھا کہ ان کو سلسلہ کسی قسم کی مدد دے سکتا، انہوں نے ایک خاص جذبہ قربانی میں اپنے آپ کو پیش کیا اور حضرت مصلح موعود نے اس قربانی کو قبول فرمایا۔آپ نے قبول فرمایا اور اللہ کی محبت کی نظر نے بھی قبول فرمایا۔اور آج اس قربانی ہی کا ایک پھل ہے کہ ہم اس کی شیرینی سے لذت یاب ہو رہے ہیں۔بہت عرصہ پہلے مجھے پین میں آنے کا موقع ملا اور میں نے اپنی آنکھوں سے وہ نظارہ دیکھا