خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد اول 10 خطبه جمعه ۱۸ جون ۱۹۸۲ء معلوم ہوتا ہے کہ یہ سرسری نظر کا فیصلہ بالکل باطل اور جھوٹا اور بے حقیقت ہے۔ انسان نہ تو غیب کا علم جانتا ہے، نہ حاضر کا۔ اور غیب اور حاضر کے علم ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ حاضر کا کامل علم ہو اور غیب کا علم نہ ہو۔ اور غیب سے لائی سے لاعلمی کے اقرار کے بعد حاضر کے علم کا دعوی کیا جائے ۔ حاضر اور غیب دو ۔ حاضر اور غیب دو قسم کے ہیں ویسے تو اندرونی تقسیمیں اس کی بہت ہیں لیکن ) زمان و مکان کے لحاظ سے ہم دو قسموں پر اسے منقسم کر سکتے ہیں۔ ماضی کے ساتھ حال کو ایک نسبت ہے اور مستقبل کے ساتھ بھی حال کو ایک نسبت ہے۔ اگر حال کو ہم شهادة کہیں تو ماضی اور مستقبل دونوں غیب میں چلے جائیں گے۔ سبب اور نتیجے کا فلسفہ جو سمجھتا ہے وہ جانتا ہے کہ اگر حال کے متعلق کسی ذات کو تفصیلی علم ہو اور اسباب کی کنہ سے واقف ہو تو سارا ماضی اس پر روشن ہو سکتا ہے اور حال کی شہادت جو ہے وہی ماضی کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے لئے کافی ہوگی۔ اور اگر کسی کو حال کا مکمل علم ہو تو وہ مستقبل کے متعلق تمام امور کو واضح بصیرت کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ آج کل کی دنیا میں جب خدا تعالیٰ کی ذات پر دوبارہ سائنسدانوں نے توجہ شروع کی تو ان میں سے ایک کمپیوٹر کا ماہر علم غیب کے موضوع پر قلم اٹھاتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس سے پہلے جو یہ تصورات تھے جہالت کے زمانے کے کہ غیب کا علم ہو ہی نہیں سکتا ، اب اس کے برعکس صورت سامنے آئی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر کمپیوٹر میں موجودات کا تمام علم تمام تفصیل کے ساتھ ڈال دیا جائے اور کمپیوٹر ایسا ہو جو ہر باریک سے باریک چیز کو بھی اپنے علم کے دائرے میں سمیٹ لے اور صحیح نتائج اخذ کرنے کا اہل ہو تو ہر فرد بشر کی موت کی یقینی اور تفصیلی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔ ہر پتے کے گرنے کا حال معلوم ہو سکتا ہے۔ کوئی ایک ذرہ بھی مستقبل کا نہیں ہے جو کامل علم والے کمپیوٹر کی نظر سے بچ سکے اور اوجھل رہ سکے۔ پس جہاں تک زمانی شاہد اور غیب کا تعلق ہے ۔ سو فیصدی قطعی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ حاضر کا علم ہی دراصل غیب کے علم پر منتج ہوتا ہے اور غیب کا علم حاضر کے علم پر منتج ہوتا ہے۔ پس اگر انسان کو حقیقتاً اپنی بے بضاعتی کا اقرار ہے، اپنی بے بسی کا اقرار ہے غیب کے بارے میں ، تو اسے لازماً یہ غور کرنا ہوگا کہ شھادہ کے بارے میں بھی میں بالکل لاعلم ہوں اور میر اعلم بے حقیقت ہے ۔ اس غور کے نتیجے میں ایک عظیم الشان عجز کا سبق انسان کو ملتا ہے جس سے بہت بڑے روحانی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔