خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 127 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 127

خطبات طاہر جلد اول 127 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء اس میں ایک مومن کے لئے کتنا عظیم الشان پیغام ہے جو بظاہر ایک ملک سے ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے جیسا کہ میں نے اس خطبہ کے شروع میں کہا تھا کہ آپ اپنی جنتیں ساتھ لے کر آئے تھے۔جب خدا کی خاطر نکالے گئے تو یہ نہیں ہوا کہ اپنی جنتیں پیچھے چھوڑ کر آگئے ہوں بلکہ خدا کی رحمت کی جنتیں آپ کے ساتھ چلتی ہوئی آئی ہیں اور یہ جنت ان معنوں میں ہے کہ اس کے بعد آپ کو مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔اس جنت کی تشریح خدا تعالیٰ نے خود فرما دی ہے۔فرماتا ہے یہ جنت کیا ہے۔یہ جنت اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کی لذتیں حاصل کرنے کی جنت ہے اور خدا تعالی کی رضا میں مزہ اٹھانے کی جنت ہے۔ایسے لوگوں پر آزمائشیں بھی آئیں تب بھی یہ جنت ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔چنانچہ فرماتا ہے: الَّذِينَ يُنْفِقُوْنَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكُظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران:۱۳۵) یہ وہ لوگ ہیں جن پر تنگی آئے یا آسائش آئے ، آسانی پیدا ہو یا مشکل پیش آجائے یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے پر ایسا مزہ اٹھاتے ہیں کہ پھر اس مزہ کو چھوڑتے ہی نہیں۔دنیا میں ہر قسم کی کیفیت سے گذر جائیں گے لیکن یہ جنت ان سے کوئی نہیں چھین سکتا کیونکہ وہ اللہ کی خاطر قربانی کرتے ہیں اور اسی کی رضا کی خاطر ہر دوسری چیز کو فدا کر دیتے ہیں۔پس ایسے لوگ مشکل آئے تب وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی۔آرام آئے تب بھی وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس شعر سے ظاہر ہے جسے میں بار ہا پہلے بھی دوستوں کو سنا چکا ہوں بہت ہی پیارا شعر ہے۔آپ اپنے رب سے عرض کرتے ہیں : و فضل تیرا یارب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو ( کلام محمود ) اب ہم تیرے وہ بندے بن چکے ہیں اور ہمیشہ کے لئے تجھ سے وابستہ ہو چکے ہیں۔اب تو فضل لے کر آئے تب بھی ہم تجھ سے راضی ہیں اور کوئی ابتلا اور مشکل آئے تب بھی ہم راضی ہیں۔یہ وہ جنت ہے جس کا ذکر عَرْضُهَا السَّموتُ وَالْأَرْضُ میں کیا گیا۔کہ وہ آسمانوں اور زمین پر محیط ہے۔ایسے بندے عرض خا کی پرر ہیں یا آسمانوں پر اڑنے لگیں یہ جنت اب ان کا کبھی ساتھ نہیں