خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 126 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 126

خطبات طاہر جلد اول 126 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (يس:١٣) جب کچھ بندے میرے دوست بن جاتے ہیں ، عبادت کے رستہ سے داخل ہوتے ہیں اور میری دوستی کی راہوں پر چلتے ہوئے مجھ تک پہنچ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت ان کو دعائیں کرنے یعنی ہر بات میں مجھے پکارنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ان کا سارا وجوداور ان کی ساری زندگی پرکار بن چکی ہوتی ہے۔فرمایالَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ کسی حالت میں بھی کبھی ان پر خوف غالب نہیں آتا کیونکہ خوف بھی ایک غیر اللہ ہے۔کسی حالت میں غم ان پر غالب نہیں آتا کیونکہ غم بھی غیر اللہ ہے اور وہ غیر اللہ سے پاک ہو چکے ہوتے ہیں۔پس ہر عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کرنے کا یہ مفہوم ہے جو سورہ فاتحہ ہمیں سکھاتی ہے اس لئے جب سورہ فاتحہ کو آپ غور سے پڑھیں گے تو ان سات آیات میں صرف ایک مضمون نہیں بلکہ معرفت کے لا متناہی سکتے آپ پر کھلیں گے۔اور ایک نہ ختم ہونے والا روحانی خزانہ آپ کو مل جائیگا۔اس لئے اسے غور سے پڑھیں۔محبت کے ساتھ پڑھیں۔پیار کے ساتھ پڑھیں۔اسی کا نام النبی محبت ہے۔اسی کے نتیجہ میں آپ کے دل خدا تعالیٰ کے فضل سے پاک اور صاف کئے جائیں گے۔اسی کے نتیجہ میں آپ کو ابدی زندگی عطا ہوگی اور جنت ملے گی جس کا ذکر ان آیات میں ہے جو میں نے اس خطبہ کے شروع میں پڑھی ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمُوتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (آل عمران (۱۳۴) فرماتا ہے وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والی مغفرت کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں دوڑتے ہوئے چلے آؤ۔اس مغفرت کے نتیجہ میں تمہیں کیا ملے گا فرمایا ایسی جنت ملے گی عَرْضُهَا السَّموتُ وَالْاَرْضُ جس کا محیط آسمانوں اور زمین کے محیط کے برابر ہے کوئی حصہ اس سے باہر نہیں ہے۔یہ ایک ایسی جنت ہے جو جغرافیائی قیود آزاد ہے تم جس جگہ رہو جہاں جاؤ وہ جنت تمہارے ساتھ ساتھ چلے گی اور تم اس جنت کے سائے سے نکل ہی نہیں سکتے۔یہ ہے پیغام اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے کہ دوڑے آؤ مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس سے تم باہر نہیں جاسکتے۔یود سے