خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 125
خطبات طاہر جلد اول 125 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء کرتے ہیں اور تیرے سامنے جھکتے ہیں تو پھر ہماری ضرورتوں کو بھی تو ہی پورا فرما۔اس کے لئے یہ دعا ساتھ ہی سکھا دی اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں۔اب غور کریں کہ یہ دعا جب دوسری شکل اختیار کرتی ہے یعنی اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں ڈھل جاتی ہے تو زندگی کی کون سی مشکل ہے جس پر یہ دعا چسپاں نہیں ہوتی۔کوئی بیماری لاحق ہو، کوئی مشکل در پیش ہو۔سفر میں حضر میں کوئی مصیبت پیش آجائے۔مثلاً چلتے چلتے موٹر خراب ہو جائے تب بھی آ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا کے ذریعہ مسائل حل کرا سکتے ہیں۔کوئی عزیز بیمار ہو، ایمانی کمزوری کا ڈر ہو، مالی مشکلات کا سامنا ہو، کسی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوں ، مقدمات کے مسائل دامن گیر ہوں، کئی قسم کی پریشانیاں ہیں جو ہزار رنگ میں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔غرض کوئی مشکل ہو یا مصیبت پیش آجائے ہر موقع پر ایک عبادت گزار کی نجات کی راہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ میں موجود ہے۔تا ہم اس دعا کے دو پہلو ہیں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا کا حق دار انسان تب بنتا ہے جب وہ پہلے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا حق ادا کرے۔اگر یہ بات ہی جھوٹی ہو کہ ہم خدا کی عبادت کرتے ہیں۔تو پھر اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا بھی جھوٹی ثابت ہوگی۔ان دونوں کا آپس میں ایسا گہر اواسطہ ہے اور ان میں ایک ایسا گہرا ربط ہے اور ایسا پختہ تعلق ہے کہ ایک کی طاقت سے دوسری چیز طاقت پکڑتی ہے۔اگر کوئی انسان عبادت واقعہ خدا کی کرتا ہے اور کسی کی نہیں کرتا تو پھر وہ حقیقتاً غیر اللہ سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ایسی صورت میں پھر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا بھی نا کام ہو جائے۔یہ ناممکن ہے کہ ایسے انسان کی پکار سنی نہ جائے۔یہ وہ بندے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کہ ہاں میرے بندے تو میرا بندہ بن گیا۔میں نے تجھے اپنا بندہ بنالیا۔اب تو میری مدد مانگتا ہے۔تو تجھے میرا یہ جواب ہے کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔جب تو نے اپنے لئے مجھے کافی سمجھا تو میں بھی تیرے لئے کافی ہو کر بتاؤں گا۔یہ وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر انسان تمام قسم کے فکروں سے آزاد ہو جاتا ہے۔تمام خوفوں سے بالا ہو جاتا ہے۔وہ اہل اللہ بن کر خدا کے فضل کے ساتھ اور اس کی رحمت کے سایہ میں زندگی بسر کرنے لگ جاتا ہے اور انہی کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے: