خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 123
خطبات طاہر جلد اول 123 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء ، پڑسکتی ہو اور اس کی دعا نماز میں موجود نہ ہو۔یہ ایک بڑا لمبا مضمون ہے۔میں اس میں اس وقت داخل نہیں ہوسکتا لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مرحوم والدین کے متعلق گزشتہ انبیاء کے متعلق ،ساری دنیا کے نیک انسانوں کے متعلق بنی نوع انسان کے متعلق، اپنے لئے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے ، غرض دعا کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جو نماز میں موجود نہ ہو۔زندگی کا کوئی پہلو نہیں ہے جو نماز سے باہر رہ گیا ہو اور جس کے لئے نماز میں دعا نہ سکھائی گئی ہو۔اس پہلو سے جب آپ نماز پر غور کرتے ہیں تو آپ کو اسلام کی حقانیت کی ایک دلیل ہاتھ آجاتی ہے۔یہاں بیٹھے آپ کو غیروں کے ساتھ گفتگو کرنے کا موقعہ ملتا ہوگا اگر آپ اور دلیلیں نہیں دے سکتے تو صرف نماز ہی پیش کر دیا کریں۔ساری دنیا کے مذاہب مل کر جو عبادت سکھاتے ہیں ان کی ساری دعائیں اکٹھی کر لی جائیں تب بھی وہ انسانی زندگی پر ایسی حاوی نہیں ہیں جیسی نماز کے اندر یہ دعائیں حاوی ہو جاتی ہیں۔چنانچہ ایک دوست نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ میں نماز میں اپنے بچوں کے لئے اپنے والدین کے لئے اور فلاں کے لئے اور فلاں کے لئے اپنی مالی مشکلات کے لئے اور اپنی فلاں باتوں کے لئے دعا کرنا چاہتا ہوں ، اس کا کیا طریق ہے، میں کس طرح دعا کروں۔میں نے اس سے کہا تم نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھتے ہو۔اس میں ایک آیت ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ اور ساتھ ہی ہے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اس کے مضمون کو آپ سمجھ لیں تو دنیا کا کوئی بھی امکانی پہلو نہیں ہے جس پر یہ دعا حاوی نہ ہو لیکن اس کے مفہوم کو سمجھنا ضروری ہے۔اس کے مفہوم کو نہ سمجھنا ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک ایسی دولت کے مالک بن جائیں جس کے متعلق آپ کو یہ علم نہ ہو کہ میرے پاس ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جس طرح بعض گھروں میں بعض خزانے دبے ہوتے ہیں۔اب جن مکینوں کو پتہ ہی نہ ہو کہ ہمارے پاس خزانہ دبا ہوا ہے اُن کو اس کا کیا فائدہ۔جیسا خزانہ ہوا ویسا نہ ہوا۔نماز کی دعاؤں کی بھی یہی کیفیت ہے۔نماز کی دعا ئیں اور خصوصاً سورہ فاتحہ کی دعا ئیں ایک بہت بڑا خزانہ ہیں جن سے شعوری طور پر واقف ہونا چاہئے کہ یہ خزانہ ہے کیا۔کس طرح اس کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔پھر اگر آپ نماز پڑھیں گے تو آپ کی نماز کا رنگ بدل جائے گا۔وہ بات جو میں کہتا ہوں کہ اپنے اندر محبت الہی پیدا کریں وہ اس طرح نماز میں پیدا ہوگی کہ آپ نماز سے پہلے تعارف تو حاصل کریں کہ یہ کیا کہتی ہے، کیا اثر کرتی ہے، ہم