خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 122
خطبات طاہر جلد اول 122 خطبه جمعه ۲۰ اگست ۱۹۸۲ء کہ وہ اپنے اہل و عیال کو نماز اور زکوۃ کی ادائیگی کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔خود نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اپنے اہل کو نماز کی تلقین کیا کرو۔فرمایا: وَأمُرُ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (۱۳۳:۱۵) اور اس بات پر صبر کے ساتھ قائم رہ یعنی اے رسول ! اس بات سے ہرگز نہ نہیں، نماز با جماعت کے لئے کہتے چلے جائیں کہتے چلے جائیں۔آخر ایک وقت ایسا آئے گا کہ تمہاری تذکیر سے اور تمہاری نصیحت سے بے نمازیوں کے دل بھی مغلوب ہو جائیں گے۔اگر تم ان کو کہتے چلے جاؤ گے اور نہیں تھکو گے تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔پس احباب جماعت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اپنی بیویوں کو، اپنے بچوں کو اپنے ساتھیوں کو، اپنے دوستوں کو نماز با جماعت کی ہمیشہ تلقین کرتے رہیں۔اگر یہ چیز میں آپ کریں تو پھر معاشرہ خواہ کیسابراہو، کیسا مخالفانہ ہو، اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی نمازوں کی حفاظت ہوتی رہے گی۔ویسے بھی یہ سادہ سادہ اور چھوٹی چھوٹی سی باتیں ہیں کوئی بڑی قربانی نہیں ہے۔بہت معمولی بات ہے لیکن فوائد کے اعتبار سے بہت بڑی بات ہے۔اس کے نتیجہ میں نماز کے ظاہر کی حفاظت بھی ہو جائے گی۔اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ ہے اپنی نمازوں کو اللہ کے پیار سے بھرنے کا۔جب بھی نماز ادا کیا کریں سوچ کر اور سمجھ کر نماز ادا کیا کریں۔سورہ فاتحہ اگر کسی کو تر جمہ کے ساتھ نہیں آتی تو ترجمہ سیکھے اور ترجمہ کے ساتھ پڑھا کرے کیونکہ یہ علم و معرفت کا ایک لا متناہی خزانہ ہے اس میں حق و حکمت پر مشتمل ایسی دعائیں ہیں جن کا فیض کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔اس کی بعض آیتیں ایسی ہیں جو ہر صورت حال پر اطلاق پا جاتی ہیں اور پھر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ایک دفعہ ایک غیر از جماعت دوست نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ جماعت احمد یہ تو اس بات کی قائل ہی نہیں ہے کہ نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرے (اور نماز کے اندر انہوں نے سمجھا کہ عربی الفاظ کے سوا ہم کچھ بول نہیں سکتے ) اس لئے آپ یہ بتائیں کہ جولوگ نماز پڑھتے ہوں لیکن نماز کے بعد جن کو اجازت نہ ہو دعا کرنے کی تو وہ کس وقت دعا کریں اور کس طرح کریں۔میں نے ان سے کہا اول تو یہ مسئلہ ہی غلط ہے کہ نماز میں اپنی زبان میں دعا نہیں ہوسکتی۔ہم تو اس کے قائل نہیں ہیں لیکن اس کے علاوہ نما ز خود ایک کامل دعا ہے ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہے جس کی انسان کو ضرورت