خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 121 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 121

خطبات طاہر جلد اول 121 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! میں تو ایک چرواہا ہوں، ایک مزدور ہوں ، لوگوں کے چند پیسوں پر بھیڑیں پالنے کے لئے اکثر زندگی جنگل میں گذارتا ہوں اور بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی بھی موجود نہیں ہوتا۔میں تو با جماعت نماز کی ادائیگی سے محروم ہو جاؤں گا۔میرے لئے کیا حکم ہے۔آنحضور علیہ نے فرمایا کہ تمہارے لئے بھی کوئی مشکل نہیں۔جب بھی نماز کا وقت آیا کرے تم اذان دے دیا کرو۔اگر کوئی مسافر دور سے گذرتا ہوا تمہاری آواز کو سن لے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈال دے گا اور وہ آکر تمہارے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے گا۔پھر فرمایا اگر کوئی مسافر بھی نہ ہو اور کوئی آواز نہ سن رہا ہو تو خدا آسمان سے فرشتے اتارے گا جو تمہارے پیچھے نماز کے لئے کھڑے ہو جائیں گے اور اسطرح تمہاری نماز با جماعت ہو جائیگی۔کیسا عظیم الشان نبی ہے۔کیسی عظیم الشان امت ہے اور ہمیشہ زندہ اور باقی رہنے والا کیسا عظیم الشان پیغام ہے۔ہر مشکل کا حل اسلام میں موجود ہے ہر مشکل کو رحمت میں بدلنے والا نبی ہمیں عطا ہو گیا۔ہمارے لئے فکر کی کونسی بات ہے۔پس اگر احباب جماعت اپنے آپ کو ان ملکوں میں مجبور سمجھتے ہیں تو کیلے بھی باجماعت نماز پڑھ لیا کریں۔تکبیر کہا کریں اور با قاعدہ با جماعت نماز کی طرح نماز پڑھا کریں اور یقین رکھیں کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی زبان مبارک سے نکلی ہوئی بات ہرگز جھوٹی نہیں ہوسکتی۔خدا کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور وہ آپ کے پیچھے نماز پڑھا کرینگے۔آپ متقیوں کے امام بنائے جائیں گے۔اگر آپ نماز کا حق ادا کرنا سیکھ جائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل خود بخو د نازل ہونے لگیں گے اور اس کثرت سے نازل ہونگے کہ ان کو سمیٹنے کے لئے آپ کا پیمانہ چھوٹا رہ جائے گا۔خدا کے فضل آپ کے پیمانوں کے کناروں سے بہہ نکلیں گے۔آخری بات اس سلسلہ میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے بیوی بچوں کو بھی نماز پڑھنے کی تلقین کیا کریں۔نماز قائم کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان خود نماز پڑھتا ہے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ لوگوں کو بھی نماز پڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔پس آپ اپنے ماحول میں روز مرہ کا یہ اسلوب بنالیں ، زندگی کا یہ دستور بنالیں کہ اپنے دوستوں کو بھی تلقین کیا کریں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی تلقین کیا کریں۔قرآن کریم میں حضرت اسمعیل علیہ السلام کے متعلق آتا ہے: وَكَانَ يَأْمُرُ اهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ (مریم:۵۷)