خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 118

خطبات طاہر جلد اول 118 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء انگلستان میں جب میں تعلیم حاصل کرتا تھا تو بہت سے پاکستانی جو ویسے نماز پڑھتے تھے لیکن لوگوں کے سامنے نماز پڑھنے سے وہ شرماتے تھے۔بعض احمدی بھی اس کمزوری کا شکار ہوئے چنانچہ ہم نے اُن کو سمجھایا۔میرے ساتھ میر محمود احمد ناصر صاحب پڑھا کرتے تھے۔یو نیورسٹی میں ہمیں جب وقت ملتا تھا ہم وہاں دونوں مل کر نماز با جماعت ادا کیا کرتے تھے۔شروع میں لوگوں نے تعجب کیا ہو گا۔مگر ہمیں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوئی۔لیکن رفتہ رفتہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض دفعہ پروفیسر کلاس روم یہ کہہ کر خالی کر دیا کرتے تھے کہ تمہاری نماز کا وقت ہو گیا ہے۔تم یہاں نماز پڑھ لو۔پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں غیروں سے شرمانا یہ بھی ایک قسم کا شرک ہے۔اس لئے اس معاملہ میں اپنے دل کو خوب کھنگالیں اور صاف کریں اور یہ عزم کریں کہ خواہ سارا جرمنی بھی آپ کی نماز پر قہقہے لگارہا ہو آپ ایک کوڑی کی پرواہ بھی نہیں کریں گے۔احباب جانتے ہیں چند سال پہلے یورپ اور امریکہ کے لئے میں اپنے ذاتی سفر پر نکلا تھا اور اپنی بچیوں کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔میں نے ان کی تربیت کی خاطر انہیں اس بات کا پابند کیا، حالانکہ عورتوں پر نماز با جماعت فرض نہیں ہے کہ وہاں میلوں میں پھیلی ہوئی سفاری پارکس یا دوسری جگہوں پر جہاں لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔وہاں مین سب لوگوں کے درمیان ہم نماز با جماعت پڑھتے تھے۔آگے میں کھڑا ہو جاتا تھا۔پیچھے میری بچیاں اور کوئی احمدی دوست اگر ہوں تو وہ بھی ساتھ کھڑے ہو جاتے تھے۔نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ لوگ ہمارے اردگرد کھڑے ہو جاتے اور کچھ دیر تعجب سے دیکھتے اور پھر سوال کرتے تھے کہ یہ کیا ہو رہا تھا ، جب ہم ان کو بتاتے تھے تو ان کی ہنسیاں غائب ہو جاتی تھیں۔ان کے دل میں احترام کے جذبات پیدا ہو جاتے تھے اور اس سے تبلیغ کی کئی راہیں کھل جاتی تھیں۔کئی لوگ ہمارا پتہ پوچھتے تھے۔چنانچہ وہ ظاہری ذلت جس سے انسان کے دل میں جھوٹا خوف پیدا ہوتا ہے اس طرح سب کے سامنے نمازیں پڑھنے سے ہمیں وہ بھی نہیں پہنچی تھی۔پہنچتی بھی تو کوئی پرواہ نہیں تھی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ خوف ہی سارا جھوٹا ہے اس کی حقیقت ہی کوئی نہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی عبادت سے کبھی نہیں شرمانا چاہئے۔عبادت ہی میں انسان کی عظمت ہے۔اس عبادت ہی میں انسان کی عزت ہے۔اسی میں اس کا وقار ہے۔بھلا اپنے رب کے حضور جھکنے میں شرم والی کون سی بات ہے۔لوگ دنیا والوں کے حضور جھکتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنے دنیوی