خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد اول 114 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء جس طرح عقاب پرندہ پر جھپٹتا ہے اس طرح وہ دونوں بچے بیقرار ہو کر دوڑے اور دیکھتے ہی دیکھتے ابو جہل کو جالیا اور وار پر وار کر کے اس کو زخمی کر دیا۔(صحیح بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدرا) میں نہیں جانتا کہ وہ بچ کر واپس آئے یا نہیں۔زخمی ہو کر زندہ بچے یا شہید ہو گئے لیکن تاریخ اسلام گواہ ہے کہ وہ دونوں بچے وہ پہلے مجاہد تھے جنہوں نے دشمن پر تلوار اٹھائی۔یہ تھے حضرت محمد مصطفی مے کے ساتھی۔اور ان سے خدا نے جو سلوک فرمایا وہ سب دنیا پر عیاں ہے۔تاریخ دان اسے دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتا ہے۔وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ یہ واقعہ ہوا تو کیسے ہوا۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ واقعہ ان عبادت گزار بندوں کے ذریعہ رونما ہوا جن میں بوڑھے بھی تھے۔اور معصوم بھی۔جوان بھی تھے اور بچے بھی۔وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے لئے تیار ہو گئے۔لیکن وہ عبادت گزار دل رکھتے تھے اور دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جو عبادت گزار دل ہوں اللہ تعالیٰ انہیں ضائع فرما دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے بھی یہی پیغام تھا۔خدا نے فرمایا اکیس الله بِكَافٍ عَبْدَہ کہ اے میرے بندے! آج تو تو ہے دنیا میں میری عبادت کا خلاصہ۔تجھے وہم کیسے پیدا ہوا کہ میں تجھے مٹنے دوں گا۔میں نے اپنے عبادت گزار بندوں سے تو کبھی بے وفائی نہیں کی۔پس جرمنی کے احباب جماعت کے لئے بھی میرا یہی پیغام ہے کہ آپ آلیس الله بكَافٍ عَبْدَہ کا فیض اٹھاتے رہے ہیں، اب بھی اٹھا رہے ہیں اور انشاء اللہ ہمیشہ اٹھاتے رہیں گے لیکن اس کے ساتھ عبادت کا بھی تو حق ادا کیجئے کیونکہ اس آلیس اللہ کی روح عبادت میں مخفی ہے آلیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ میں ایک پیغام ہے کہ جب تک دنیا میں خدا کی عبادت قائم رہے گی اور جب تک اللہ سے محبت کرنے والے دل دھڑکتے رہیں گے اللہ کے فضلوں کی ہمیشہ کے لئے ضمانت ہے اور اس ضمانت کو دنیا میں کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔پس جہاں خدا تعالیٰ نے آپ کو مالی قربانیوں کی توفیق بخشی ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں آپ نے اپنے عزیز مال فدا کرنے کی سعادت پائی ہے وہاں اس بات کو بھی فراموش نہ کریں۔اگر آپ نے اس حقیقت کو فراموش کر دیا تو یہ رحمتیں اور یہ برکتیں عارضی ثابت ہوں گی۔آپ کے ساتھ کچھ دیر چلیں گی پھر آپ کی اولادوں کے حصہ میں نہیں آئیں گی اس لئے سب سے اہم اور بنیادی پیغام جو میں آپ کے لئے لے کر آیا ہوں وہ یہی ہے کہ خدا کی عبادت کو قائم کریں۔ہر دل وہ عابد دل