خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد اول 111 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء پیدا ہوئے تو معا بڑے زور اور شدت کے ساتھ اور خاص جلال کے ساتھ یہ الہام ہوا۔الیس الله بِكَافٍ عَبْدَهُ ( کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 ص 194) کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ؟ اس الہام کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی پر ایک زلزلہ سا طاری ہو گیا اور طبیعت شدت کے ساتھ استغفار کی طرف مائل ہوئی۔لیکن جوں جوں وقت گذرتا چلا گیا معلوم یہ ہوتا چلا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان خوشخبری تھی جو ہمیشہ ہمیش کے لئے آپ کے لئے بھی تھی اور آپ کے ساتھ کے درویشوں کے لئے بھی تھی۔ان نسلوں کے لئے بھی تھی جنہوں نے آپکا فیض پایا اور ان نسلوں کے لئے بھی تھی جو بعد میں آنے والی تھیں۔گویا اس الہام کے فیض سے جماعت احمد یہ ہمیشہ مستفیض ہوتی رہے گی۔اور گویا یہ اعلان تھا کہ آج دنیا میں ایک ہی تو ہے جو میرا بندہ کہلانے کا مستحق ہے۔ماؤں کا ایک لعل ہوتا ہے تو وہ اس کو نہیں چھوڑا کرتیں پھر تمہیں کیسے یہ وہم ہوا کہ میں اپنے بندہ کو اس دنیا میں اکیلا چھوڑ دوں گا۔اگر تجھے چھوڑ دیا تو دنیا میں اور کون ہوگا جسے میں اپنا بنا سکوں۔چونکہ آپ بندگی کا خلاصہ تھے اور آپ وہ تھے جن سے آگے عبادت کرنے والے پیدا ہونے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا۔قبل ازیں خدا کی قدرت کا ایک زبر دست نظارہ دنیا نے جنگ بدر میں دیکھا جس کی یاد آج بھی دلوں کو ایمان سے بھر دیتی ہے۔جنگ بدر میں ۳۱۳ صحابہؓ جن میں بوڑھے بھی تھے اور بچے بھی۔کمزور اور نحیف بھی تھے اور نہتے بھی تھے۔وہ سب کے سب ایسے حال میں اسلام کے دفاع کے لئے نکل کھڑے ہوئے کہ اُن کے پاس لڑنے کے سامان بھی پورے نہیں تھے بلکہ پہننے کے کپڑے بھی پورے نہیں تھے۔نہ ان کے پاس تلوار تھی۔کسی کے پاس محض جھنڈا تھا۔کسی کے پاس لکڑی کی تلوار تھی۔مگر جو بھی کچھ کسی کے پاس تھا وہ لے کر خدا کے دین کی حفاظت کے لئے میدان میں حاضر ہو گیا۔چنانچہ ایک جنگ اس میدان میں لڑی گئی جو بدر کا میدان تھا اور ایک اس خیمہ میں لڑی جارہی تھی جہاں دراصل فتح و شکست کا فیصلہ ہونا تھا یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ کا خیمہ۔بے حد گریہ وزاری کے صلى الله ساتھ روتے ہوئے آنحضرت علی اپنے رب کے حضور یہ عرض کر رہے تھے: ﷺ اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكُ هَذِهِ الْعِصَا بَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِ سُلَام فَلَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا ( مسند احمد بن حنبل جلدا حدیث نمبر (203) کہ اے میرے اللہ۔مجھے اور کچھ پرواہ نہیں۔مجھے تو تیری ذات کے تقدس کی فکر ہے۔اگر