خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 104 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 104

خطبات طاہر جلد اول 104 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۸۲ء انہیں آزمائیں کہ ان میں سے کون بہترین عمل کرنے والا ہے۔اور یقیناً ہم جو کچھ اس پر ہے اسے خشک بنجر مٹی بنا دیں گے۔کیا تو گمان کرتا ہے کہ غاروں والے اور تحریروں والے ہمارے نشانات میں سے ایک عجب تر نشان تھے؟ جب چند نو جوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تو انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر اور ہمارے معاملے میں ہمیں ہدایت عطا کر۔حضور نے واضح فرمایا کہ سورۃ الکہف وہ سورۃ ہے جس میں ابتدائی عیسائیوں کی تکالیف اور کس مپرسی کا ، پھر ان کے عروج و زوال کا ، درمیان میں اسلام اور مسلمانوں کی غالب آنے کا، پھر مسلمانوں کے زوال پذیر ہونے کے بعد عیسائیوں کے از سر نو عروج پکڑنے کا اور بالآخر ان کے نیست و نابود ہونے کے بعد اسلام کے دوبارہ غالب آنے کا ذکر ہے۔اس سورۃ کا تعلق عیسائیوں کے ابتدائی زمانہ سے بھی اور اس آخری زمانہ سے بھی ہے جس میں انہوں نے ایک دفعہ پھر عروج حاصل کر کے صفحہ ہستی سے نابود ہو جانا ہے اور اس کی جگہ اسلام نے دائمی طور غالب آنا ہے۔حضور نے خطبہ جاری رکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ پھر سورۃ الکہف ہی وہ سورۃ ہے جس کا تعلق عروج دجال سے بھی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے خروج دجال کی خبر دی اور اس کے ذریعہ دنیا بھر میں پھیلنے والی تباہی سے ڈرایا تو صحابہ نے پوچھا اس تباہی سے بچنے کا طریق کیا ہے؟ اس پر آنحضرت علی نے فرمایا تم سورۃ الکہف کی پہلی دس اور آخری دس آیات بکثرت پڑھا کرو۔تم دجال کے فتنہ سے محفوظ رہو گے۔اب نعوذ باللہ یہ آیات جنتر منتر کی طرح تو نہیں ہیں کہ محض ان کے پڑھنے سے ہی انسان دجال کے فتنہ سے محفوظ ہو جائے بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ چونکہ اس سورۃ میں عیسائیوں کے عروج و زوال اور آخری زمانہ میں ان کے ذریعہ پھیلنے والے فتنہ کا ذکر ہے اور اسلام کے غالب آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے اور ان لوگوں کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے جن کے ذریعہ اسلام دنیا میں غالب آئے گا۔اس لیے جو مسلمان وہ اوصاف اپنے اندر پیدا کریں گے وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہیں گے۔حضور نے فرمایا اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ سورۃ اس زمانہ کے لوگوں کے لیے اور بالخصوص ہمارے لیے اور ہم میں سے بھی ان لوگوں کے لیے جو مغربی ملکوں میں آکر آباد ہوئے ہیں ، خاص اہمیت کی حامل ہے۔یہ دانش اور روشنی کا ایک چارٹر ہے اس پر غور کریں اور اس میں پوشیدہ