خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 97 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 97

خطبات طاہر جلد اول 46 97 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء وہ بصیرت عطا ہو چکی ہے جس بصیرت کا خدا ذکر فرما رہا ہے۔وہ خود نظروں پر جلوہ گر ہو چکی ہے اور بصیرت ہی نہیں بصائر یعنی بے شمار روشنیاں عطا ہو گئی ہیں۔اب جس رنگ میں کوئی انسان چاہے خدا کو پانے کی مقدرت رکھتا ہے۔فرمایا مَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ پس جو چاہے اس نور اور روشنی سے فائدہ اٹھالے اور جو چاہے عَمِيَ عَلَيْهَا وہ اپنی آنکھیں اس سے اندھی رکھے ،ان بصائر سے غافل رہے۔وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفیظ اور میں تم پر حفیظ بنا کر نہیں بھیجا گیا۔یہ حیرت انگیز تصریف آیات ہے جس کی طرف میں خاص طور پر آج آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کیونکہ پھر اس کے معا بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيَّنَةُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ٥ کہ دیکھو کس طرح ہم آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں اور اپنے رنگ بدلتے ہیں۔اپنے اسلوب کو اچانک بدل دیتے ہیں۔جب ہم اچانک اسلوب کو بدلیں تو یا درکھنا اس میں بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔اس میں گہرے راز مضمر ہیں اور یہ خیال نہ کر لینا کہ (معاذ اللہ ) غفلت کی حالت میں حضرت محمد ﷺ نے ضمائر کو پھیر دیا ہے۔تصریف آیات کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ غائب ضمیر میں بات ہوتے ہوتے حاضر کی طرف توجہ ہوگئی۔اس کی بات کرتے کرتے اپنی بات شروع کر دی۔خدا کی باتیں ہو رہی ہیں۔آنحضرت کا ذکر ہی کوئی نہیں تھا اچانک اس میں آنحضرت ﷺ کا وجود داخل ہو جاتا ہے۔یہ تصریف آیات کا ایک طریق ہے اور یہ ساری آیات جن کا میں نے ذکر کیا ہے تصریف کے مختلف پہلو اپنے اندر رکھتی ہیں۔اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَابِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبَّا مُتَرَاكِبًا انعام :) کہ وہی ذات ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا۔فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا ہم اس سے سبزی نکالتے ہیں۔یعنی ابھی تو فرما رہا تھا کہ اس ذات نے پانی اتارا اور اچانک کہنے لگا کہ ہم اس سے سبزی نکالتے ہیں اس کو کہتے ہیں تصریف۔یعنی تعریف کا ایک رنگ یہ ہے کہ ذکر ہو رہا ہے غائب میں اور اچانک خدا خود بیچ میں داخل ہو گیا اور اس نے گویا Take Ove کر لیا۔غائب سے اچانک حاضر میں جلوہ گر ہو گیا۔اس تصریف کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ