خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 94 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 94

خطبات طاہر جلد اول 94 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء ہیں۔وہ موت سے زندگی نکالنے والا ہے اور زندگی کو موت میں داخل کرتا رہتا ہے ذَلِكُمُ اللهُ یہ ہے تمہارا اللہ فَانّى تُؤْفَكُونَ اس کو چھوڑ کر اس سے پیٹھ پھیر کر کہاں چلے جارہے ہو۔وَجَعَلَ الَّيْلَ سَكَنَّا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَحُسْبَانًا اس نے رات کو تمہارے لئے ذریعہ تسکین بنایا اور خود رات بھی ایک سکینت کا منظر پیش کرتی ہے۔ساکن رات دلوں کے لئے اطمینان کا پیغام لے کر آتی ہے وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا اور ہمیشہ ایک دائروی گردش میں گھومتے ہوئے سورج اور چاند اپنی رفتاروں میں ایسے معین ، ایسے قطعی اور ایسے غیر مبدل ہیں کہ وہ تمام انسانوں کے لئے حساب جاننے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں۔ذلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ یہ سب تقدیر اس ذات کی ہے جو غالب بھی ہے اور سب کچھ جاننے والی بھی۔ان آیات کی طرف توجہ مبذول ہوتے ہوئے میں وہاں تک پہنچا جہاں بالآ خر خدا نے ان تمام محرکات اور پس پردہ اصول کا ذکر فرمایا ہے جو زندگی کے ہر قسم کے حسن کا باعث بنتے ہیں یعنی خدا تعالیٰ نے ایسے حسن کا بھی ذکر فرمایا جو ناروے میں پایا جاتا ہے اور ایسے حسن کا بھی جو صحراؤں میں پایا جاتا ہے۔ایسے حسن کا بھی ذکر فرمایا جو سکوں میں پایا جاتا ہے اور ایسے حسن کا ذکر بھی جو سمندروں اور سطح آب پر پایا جاتا ہے۔غرض ان تمام محرکات کا ذکر فرمانے کے بعد جو حسن کی ہر قسم کی پیداوار کا باعث ہیں اچانک خدا نے اپنی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا لِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (نام ۱۰۲) یہ ہے تمہارا で رب جو ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔تمام حسن کا سر چشمہ اور ہر نور کا منبع ہے۔اس سے ہر وہ چیز پھوٹتی ہے جو زندگی بخش ہے۔کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کا وہ خالق نہ ہو فَاعْبُدُوهُ پس اسی کی عبادت کرو وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وکیل اور وہ ہر چیز پرنگران ہے۔یہاں تک پہنچنے کے بعد پھر مجھے مزید تعجب یہ ہوا کہ جب خدا تعالیٰ خودان تمام نظاروں کے طبعی نتیجہ کے طور پر عبادت کی طرف توجہ دلاتا ہے گویا یہ فرما رہا ہے کہ یہ سارے نظارے میری طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔تم کیوں ان اشاروں کو نہیں دیکھتے؟ کیوں میری عبادت نہیں کرتے ؟ مجھے تعجب اس بات پر ہوا کہ اتنی بے شمار انگلیوں کے باوجود انسان ان کے پیغام کو سمجھتا کیوں نہیں۔ان کے رخ کو دیکھتا کیوں نہیں۔اے میرے خدا! مجھے تو اس کا جواب چاہئے تھا۔میں تو اس فکر میں غلطاں