خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد اول کے اس مصرعہ کی طرف منتقل ہوا۔348 بے پر دل کو پہنچے غم جب یاد آئے وقت رخصت خطبه جمعه ۲۴ / دسمبر ۱۹۸۲ء کہ ابھی تو مہمانوں کی آمد آمد ہے لیکن ایک عارف باللہ اور مہمان نوازی کے اعلیٰ خلق پر فائز ایک انسان اُن کے جانے کے بعد جوغمگین ہوتا تھا وہ تو ہوتا تھا ابھی وہ وقت آیا ہی نہیں تو اس غم کا احساس پہلے ہی دل میں جنم لے چکا ہوتا تھا۔پس آپ ہی کے ادنی غلاموں کا مہمانوں کے جانے پر غم محسوس کر نا یہ تو ایک روایت ہے جو ہم نے ورثہ میں پائی ہے۔انسانی فطرت تو ایک ہی رہتی ہے۔البتہ بچہ میں اس کا اظہار مختلف طریق پر ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ میرے ایک بھانجے قمر سلیمان احمد جو آج کل نائیجیریا میں لیکچرر ہیں ہم انہیں پیار سے بھی کہتے ہیں۔وہ بچپن میں جب انڈا کھایا کرتے تھے تو ان کو انڈا اتنا پسند تھا کہ کھاتے کھاتے ابھی نصف تک نہیں پہنچا ہوتا تھا تو رونے لگ جاتے تھے اور ہم جان کر چھیڑنے کی خاطر ان کا جواب بڑا پیارا لگا کرتا تھا ) ان سے پوچھتے تھے کہ بہی روتے کیوں ہو۔تو وہ جواب دیتا تھا کہ انڈا ”چم ہو جائے گا یعنی ختم بھی نہیں کہہ سکتا تھا اتنی چھوٹی عمر کا واقعہ ہے کہ مجھے یہ غم لگ گیا ہے کہ یہ انڈا جو شروع کر بیٹھا ہوں یہ تو ختم ہو جائے گا۔66799 در اصل ساری زندگی کا فلسفہ یہی ہے۔جو چیز آتی ہے وہ ختم ہو جاتی ہے اور اسی فلسفہ کا نام زندگی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو پھر دکھ بھی ختم نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے کیسا عدل قائم کر رکھا ہے۔خوشیاں بھی آتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں۔بڑے بڑے دکھ بھی آتے ہیں جن سے انسان سمجھتا ہے کہ میں کبھی گزر ہی نہیں سکوں گا، وہ بھی آکر ختم ہو جائیں گے۔اسی طرح تکلیفوں کے ادوار بھی آنی جانی بات ہے۔زندہ اور عارف قو میں جانتی ہیں کہ یہ وقتی تکلیفیں اور یہ آزمائشیں سب آنی جانی چیزیں ہیں۔یہ گزر جائیں گی۔ان کو دوام نہیں ہے۔کیونکہ تقدیر الہی اسی طرح جاری وساری ہے۔پس ان چیزوں سے جہاں غم بھی پہنچتا ہے وہاں حو صلے بھی بڑے بلند ہوتے ہیں۔یقین اور عزم بھی پیدا ہوتا ہے۔اس تعارف کے بعد اب میں ایک دو باتیں جلسہ کی ذمہ داریوں سے متعلق کہنا چاہتا ہوں۔جن میں آنے والے اور جانے والے بھی شریک ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ چونکہ غیر معمولی طور پر آبادی بڑھنے کی وجہ سے سڑکوں پر ہجوم ہو جاتا