خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 320
خطبات طاہر جلد اول 320 خطبه جمعه ۳/ دسمبر ۱۹۸۲ء پس اس جذبے کے ساتھ اور دعا کے اس فلسفے کو سمجھتے ہوئے دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو۔ہمیں ساری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ خود ہمارے بوجھ اٹھانے والا ہو اور جس طرح باپ اپنے بچوں کا بوجھ پیار کے ساتھ اٹھاتا ہے اور بتا تا یہ ہے کہ گویا وہ اٹھارہے ہیں ، اسی طرح ہم بھی اپنے بھول پن میں یہی سمجھتے رہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کر لیا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ساری ذمہ داریاں اللہ ہی ادا کرے گا۔اسی کی طاقت میں ہے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: خطبہ میں میں ایک بات کہنی بھول گیا۔وہ دراصل اس کا حصہ ہی ہے کچھ انتظامی وضاحتیں بھی ضروری تھیں وہ ایک دو فقروں میں میں کر دیتا ہوں۔یہ جو صد سالہ جو بلی کا نظام ہے۔دراصل اس کا تعلق تحریک جدید سے ہے۔لیکن ابتداء میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔کہ ایک الگ چھوٹی سے آرگنائزیشن بنادی جاتی ہے تا کہ وہ فوری طور پر اس کام کو سنبھال لے۔یہ ایک نیا منصوبہ تھا۔اس کے سارے خدو خال اس وقت کھل کر سامنے نہیں آئے تھے۔اب میں نے انتظامی پہلو پر غور کیا ہے۔اس لحاظ سے یہ انجمن کا حصہ بنے کی نسبت تحریک جدید کا حصہ بننے کے زیادہ اہل ہے اور قریب تر ہے کیونکہ اس کے اکثر تقاضے بیرونی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور جہاں تک جشن کا تعلق ہے تو اس کے لئے ایک الگ کمیٹی مقرر ہے۔اس لئے اس پر کوئی فرق ہی نہیں پڑنا چاہے اس منصوبے کو تحریک کا حصہ بنایا جائے یا انجمن کا۔منصوبہ بندی کمیشن اپنا آزاد کام کرتا رہے۔یہ میں اس لئے واضح کر رہا ہوں کہ اب سے یہ تحریک جدید کی ذمہ داری ہے ان کا فرض ہے کہ وہ ساری دنیا میں کوشش کر کے جلد از جلد جماعت کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور امید ہے انشاء اللہ بہت جلد حالات بہتر ہو جائیں گے۔آئندہ سے سیکرٹری صد سالہ جو بلی کی بجائے اس شعبے کا انچارج وکیل ہوگا اور وہ وکیل برائے صد سالہ جو بلی فنڈ کہلائے گا یا علماء جو بھی اس شعبہ کا ایک مختصر سا اور بہتر نام تجویز کریں اس کے مطابق وہ رکھ لیا جائے گا۔آج ہی حسن اتفاق سے ہمارے وہ سینئر مبلغ ربوہ پہنچے ہیں یا پہنچنے والے ہیں جو اس منصوبے کے لئے میرے ذہن میں تھے۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسا تطابق فرمایا اور ایسا توارد ہو گیا کہ جمعہ پر