خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 315

خطبات طاہر جلد اول 315 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء اولیاء کی اولادیں سات پشت تک اپنے باپ دادا کی نیکیوں کا پھل کھاتی ہیں۔اور جسے اللہ تعالیٰ بڑھانا چاہے اگر سات پشتوں میں ایک بھی نیک پیدا ہو جائے تو یہ نظام جاری رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی جزا کا نظام تو کبھی ختم ہی نہیں ہوسکتا۔پھر آنحضرت علﷺ کی سیرت طیبہ ہم نے ساری دنیا کے سامنے اس نقطۂ نگاہ سے پیش کرنی ہے کہ ظالموں نے آپ کی ذات مقدس پر جتنے بھی اعتراض کیے ہیں ان سب کے جوابات ساتھ ہوں اور دنیا کی سب زبانوں میں وہ تراجم پیش کیے جائیں۔یہ جو دوسرے رائج الوقت نظام کے قائل ہیں، مگر سہرے سے خدا کے قائل ہی نہیں جب تک ان کے سامنے خدا تعالیٰ کی ذات کو پیش نہ کیا جائے اور ایسے پُر اثر اور مدلل مضمون نہ لکھے جائیں جن سے وہ سمجھنے لگیں کہ ہاں ، واقعہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہئے ، اس وقت تک یہ ساری چیزیں ان پر کچھ بھی اثر نہیں کریں گی۔نہ وہ قرآن کو سمجھیں گے ، نہ سیرت آنحضرت ﷺ کو سمجھیں گے اور نہ ہی دوسرے پمفلٹ اور رسائل کی ان کے نزدیک کوئی قیمت ہوگی۔جب وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر غور کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں تب قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی سیرت اور دوسرے مضا میں ان کے سامنے پیش کئے جائیں۔ان کی دلچسپیوں کو اسلام کی طرف کھینچنے کے لیے بعض اور ضروری ذرائع ہیں۔اگر آپ وہ اختیار نہیں کریں گے تو لاکھ کوشش کریں یہ لوگ آپ کی طرف مائل نہیں ہوں گے۔مثلاً اسلام کا اقتصادی نظام ہے۔ان کو بتایا جائے کہ کیوں یہ نظام اشترا کی نظام سے بہتر ہے؟ کیوں یہ Capitalistic سسٹم یعنی سرمایہ دارانہ نظام سے بدرجہا بہتر ہے؟ یہ لوگ مذہبی اقدار کو بھلا بھی دیں اگر خالصہ دہریہ کے نقطہ نگاہ سے حسابی نظر کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہم ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلام کا پیش کردہ اقتصادی نظام باقی سب نظاموں سے بہتر ہے۔جماعت کی طرف سے اس کو بار ہا ثابت کیا جا چکا ہے لیکن وہ کافی نہیں۔نئے بین الاقوامی تقاضوں کے لحاظ سے ، اور نئے حالات کے لحاظ سے اس چیز کو ایک نئے رنگ میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔اقتصادیات تو کوئی غیر متبدل چیز نہیں ہے کہ اگر اس کے اوپر آج سے پچاس سال پہلے ایک کتاب لکھی گئی تو وہ ہمیشہ کے لیے جاری رہے گی۔صرف قرآن ہے جو ہمیشہ کے لیے جاری رہتا ہے۔باقی