خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 197

خطبات طاہر جلد اول 197 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء فریق کے بارہ میں میرا رویہ یکطرفہ اور متشددانہ تھا اور یہ کہ میں اپنے خاندان کے افراد کے بارہ میں کچھ زیادہ ہی سخت بول گیا ہوں جس خاندان سے میرا تعلق ہے۔اور میں نے انہیں خاص طور پر سختی سے کہا ہے کہ اگر وہ قرض لیں تو اپنے معاملات صاف رکھیں۔خصوصاًمالی معاملات ، ورنہ وہ متاثرہ لوگوں کی نظر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام اور عزت پر بٹہ لگانے والے ہوں گے۔میں نے یہ اس لئے نہیں کہا کہ مجھے علم نہیں تھا کہ دوسرے لوگ بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔میں اسلامی تعلیمات سے واقف ہوں۔اسلام صرف یہ نہیں کہتا کہ صدقہ کے پہلے حقدار گھر والے ہیں بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ نصیحت گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔اسی وجہ سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو نبوت کے آغاز میں یہ ارشاد ہوا۔اَنْذِرُعَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ (الشر ۱ : ۲۱۵) کہ اپنے رشتہ داروں اور قریبی ساتھیوں کو تنبیہ کرو۔چنانچہ آپ نے اپنے خاندان سے ہی تبلیغ کا آغازفرمایا اور پھر آپ پہاڑی پر تشریف لے گئے اور باقی تمام اہل مکہ سے خطاب فرمایا۔چنانچہ یہ نہیں کہ مجھے ان باتوں کا علم نہیں تھا۔صرف یہ کہ میں قرآن کریم کی تعلیم کی متابعت کر رہا تھا۔اور اس پالیسی پر عمل کر رہا تھا جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے۔مالی معاملات میں گڑ بڑ روکنے کے بارہ میں میں نے بڑی تفصیل سے اس لئے وضاحت کی ہے کہ کوئی معاشرہ عدل کے بغیر ترقی کر ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے۔وہ تخریب کا شکار ہو جائیگا اور کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔چنانچہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اسلامی ثقافت اور اسلامی معاشرہ کو دنیاداری کی طرف جھکا دیں گی۔ایسا معاشرہ بیمار معاشرہ ہوگا۔یہ ایسا معاشرہ ہوگا جیسے مثلاً ہم فرد واحد کی مثال لیں۔میں اس قسم کے معاشرہ کی مثال اس طرح سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص زیادہ بلڈ پریشر یا کم بلڈ پریشر کی وجہ سے بیمار ہو یا گردوں کی کمزوری کی وجہ سے پیشاب زیادہ کرنے کا مریض ہو وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ ایک بیمار شخص زندگی میں کچھ حاصل کرنے کے قابل نہیں رہتا۔اگر صحت کسی بھی پہلو سے تھوڑی سی بھی خراب ہو تو وہ اس پہلو سے صحت مندانہ سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتا۔لیکن اگر تکلیف زیادہ ہو تو وہ بالکل ناکارہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ ورلڈ ریکارڈ توڑنے کے بارہ میں سوچنے سے قبل اچھی صحت بہت اہم ہے۔اور آپ کو ورلڈ ریکارڈ توڑنے کا کام سونپا گیا ہے۔یہ آپ کا مورچہ ہے۔زندگی میں یہ آپ کا مقام ہے۔