خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد اول 198 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء چنانچہ صحت کی کمزوری کی علامات خواہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہوں برداشت نہیں کی جاسکتیں۔حتی کہ سومیٹر تک دوڑنے والا دنیا کا بہترین اتھلیٹ بھی اگر سر درد محسوس کر رہا ہو تو ہو سکتا ہے کہ دسویں نمبر پر آنے والا اس سے جیت جائے۔چنانچہ احمدی معاشرے میں صحت مند رجحان قائم کریں۔تب انشاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ آپ اپنے عظیم الشان مقاصد کو تیز رفتاری سے جلد حاصل کرنے والے ہوں گے۔اس کے لئے میرے ذہن میں یہاں ایک کمیشن بنانے کا خیال ہے۔اور اس کے لئے میں نے بعض نام سوچ لئے ہیں۔میں اعلان کرتا ہوں کہ میرے جانے سے قبل مالی بد معاملگی کے بارہ میں انگلستان میں رہنے والوں اور جو انگلستان سے جاچکے ہیں اور یا تو ان پر ان بد معاملگیوں یا بے ایمانی کا الزام ہے اور یا انہوں نے انگلستان میں رہنے والے لوگوں پر ایسے الزامات لگائے ہیں، تحقیق کے لئے ایک کمیشن تشکیل پا جائیگا۔جو بھی ہو، یہ کمیشن تمام شکایات اور رپورٹس مجھے بھجوائے گا کہ کیا طریق اختیار کیا جائے۔اسی طرح شادیوں کے بندھن ٹوٹ جانے کے بارہ میں بھی ایسی رپورٹس ملی ہیں جو خاوند کے بیوی سے غلط رویہ یا بیوی کی خاوند سے بدسلوکی کے نتیجہ میں نا کام ہوگئی ہیں۔جب ہم دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ گھر کے بارہ میں اسلام کی تعلیمات بہترین ہیں جن کی پیروی کرنا چاہئے اور اسی وقت ہم اپنے عمل سے اپنی بات کو رد کر دیتے ہیں تو یہ اسلام سے نا انصافی ہے۔تو یہ بھی نہیں ہونا چاہئے۔اس کے لئے میں قضا بورڈ سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسے تمام کیسز جو ابھی تک حل نہیں ہوئے انہیں جلد حل کروائیں۔چنانچہ ا یکدفعہ جب قضا کوئی فیصلہ کرے تو پھر اس میں لیت ولعل نہیں ہونی چاہئے۔کیونکہ اگر آپ کے فیصلہ پر عملدرآمد میں دیر ہو جائے تو پھر انصاف کے تمام تقاضے ختم ہو جاتے ہیں۔فیصلہ پر عملدرآمد کروانے والوں کا کام نہیں کہ کسی فریق سے رحم اور ہمدردی کا سلوک کریں۔وہ قاضی کے فیصلہ پر قاضی نہیں ہیں۔اگر وہ غلط ہے اور آپ کو یقین ہے کہ وہ غلط ہے تب بھی آپ کا فرض ہے کہ اس پر عملدرآمد کروائیں کیونکہ غلط فیصلہ کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ہوگی آپ کے کندھوں پر نہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں گے آپ کو نہیں۔چنانچہ فیصلوں پر فوری عمل کروانا چاہئے اور میں اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا کہ عملدرآمد کو جانتے بوجھتے ہوئے یا ویسے ہی لڑکا یا جارہا