خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 174
خطبات طاہر جلد اول 174 خطبه جمعه یکم اکتوبر ۱۹۸۲ء آنحضور ﷺ کی بعثت تھی۔جبکہ قوانین قدرت میں کچھ نہیں بدلا، ان میں کوئی بھی تبدیلی مشاہدہ میں نہیں آئی۔آسمان ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ تھا۔میرا مطلب ظاہری آسمان سے ہے۔آسمان اور ستاروں کی چال ویسی ہی رہی۔مگر آنحضور ﷺ کی بعثت کے بعد ایک انقلاب ضرور آیا اور ایک نیا نظام جاری ہوا۔چنانچہ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ نہ اس آیت میں اور نہ گزشتہ آیت میں ظاہری قوانین قدرت کا ذکر ہے۔اس سے دراصل مراد یہ ہے کہ جب انبیاء مبعوث ہوتے ہیں تو وہ ایک نیا آسمان تیار کرتے ہیں اور یہ آسمان اس سے مختلف ہوتا ہے جس سے پہلے لوگ واقف تھے۔انبیاء کی بعثت سے قبل دنیا دار لوگ مذہبی اقدار پر اعتراض کرنے کے لئے آزاد ہوتے ہیں۔بلکہ وہ خدا تعالیٰ پر بھی اعتراض کر دیتے ہیں۔ان کے ٹیڑھے دماغ پہلے خود شکوک و شبہات کا شکار ہوتے ہیں اور پھر وہ شکوک کے یہ پیج دوسرے لوگوں کے ذہنوں میں بونے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہتا ہے کیونکہ اس وقت تک وہ آسمان تیار نہیں ہوا ہوتا جس کا ذکر قرآن کریم میں سب سے نچلے آسمان کے رنگ میں کیا گیا ہے اور ان ستاروں نے ابھی جنم نہیں لیا ہوتا جو مذہبی اقدار کے نگہبان ہوں۔یہ آسمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں نیا آسمان اور نئی زمین کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔نئے آسمان سے مراد وہ آسمان ہے جو اس آیت میں مذکور ہے اور یہ انبیاء کی بعثت سے پہلے تیار نہیں ہوسکتا جیسا کہ سورۃ جن نے اس کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے۔چنانچہ حضرت محمد ﷺ تشریف لائے اور آپ کے ساتھ ایک نئے آسمان نے جنم لیا۔پھر ستارے کون ہیں؟ وہی ہیں جن کے بارہ میں آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اصحابی کالنجوم بأيهم اقتديتم اهديتم ( مشکوۃ المصابیح کتاب المناقب باب مناقب الصحابہ) میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔جس کی بھی متابعت تم اختیار کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔چنانچہ یہ نیا آسمان ہے جو تیار کیا گیا اور اس نئے آسمان کی طرف قرآن کریم کہیں کہیں اشارہ فرماتا ہے۔اب اس آسمان کی خوبیاں کیا ہیں؟ اس نئے آسمان کی خوبیاں جو یہاں بیان ہوئی ہیں یہ ہیں کہ اس کے ستارے مذہبی اقدار اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کے نگہبان ہیں۔نیا آسمان بننے کے بعد لوگوں کو اجازت نہیں کہ وہ مذہبی اقدار پر پہلے کی طرح حملہ آور ہوسکیں۔اب ان کا مقابلہ