خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 327 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 327

خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۷ خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۸۱ء بھری ہوئی ہے اس سے اور چونکہ آج اسلام کو تمام ادیان پر اپنے دلائل اور نشانات کے ساتھ غالب کر دینے کا منصو بہ اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اس لئے جماعت احمدیہ سے وہ عاجزانہ راہوں کا مطالبہ کرتا ہے۔وہ ہجرت کا مطالبہ کرتا ہے ہجرت بھی ہوئی ایک، قادیان سے لیکن جو ہر وقت ہمارے ساتھ مطالبے چھٹے ہوئے ہیں یعنی ہجرت کے تین پہلو۔شہوات نفسانی ترک کر دو۔اچھے اخلاق ہوں ، گناہوں سے بچو۔پھر مجاہدے کے معنی ہیں تین۔وہ تو میں نے اس اپنے مضمون میں نہیں لئے اور پھر بنیادی چیز کہ صبر اور توکل۔ہم کہا کرتے ہیں خدا میں فنا ہو جاؤ یعنی اپنی زندگی اس کے حضور پیش کر دو اور ایک نئی زندگی پاؤ۔اپنی زندگی اس کے حضور پیش کر دو اسی کا نام صبر ہے یعنی ہر چیز اس کے حضور پیش کر دی۔وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ یہ تو گل ہے وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔اب میں صرف جماعت احمدیہ کو (ویسے چودہ سوسال سے یہ چلا آرہا ہے قصہ ) مخاطب کر رہا ہوں۔کوئی بانوے ، ترانوے سال ہو گئے۔ایک دن بھی تو ایسا نہیں جو یہ گواہی دے کہ جماعت کا جو مضبوط حصہ ہے (دوسرا حصہ بھی ساتھ رہتا ہے اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کر دیتا ہے یا مٹا دیتا ہے ) انہوں نے اپنے خدا سے صبر کا رشتہ جو ہے وہ قطع کیا ہوا نہیں۔صبر ، ثبات ،حسن عمل ہے اور ایک دن بھی ایسا نہیں جو انہوں نے خدا تعالیٰ کے وعدوں کی روشنی میں اس کے انعامات نہ پائے ہوں۔ابھی خدام الاحمدیہ نے ایک سکیم بنائی۔نوجوانوں کی خواہش تھی۔میں نے ان کو اجازت دے دی کہ دو مسجدوں کے لئے یورپ اور امریکہ اور کینیڈا سے چندہ جمع کرو۔وہاں خدا تعالیٰ نے بیسیوں اپنے پیار کے اور شفقت کے اور محبت کے مظاہرے دکھائے۔انگلستان کا ایک نوجوان تھا۔اس نے خود مجھے خط لکھا ہے (ساری تفصیل نہیں لکھی۔بعض حصے لکھے وہ شرما گیا ہے لکھتے ہوئے ) کہ جب یہ تحریک ہوئی تو مجھے بھی خیال پیدا ہوا کہ میں دوں۔میں نے پانچ سو پچاس پونڈ کا وعدہ ۵۵۰ کر دیا اور تھے میرے پاس صرف پانچ پونڈ۔پھر مجھے خیال آیا کہ صرف وعدہ تو ٹھیک نہیں ہے۔میں نے اپنے بنک سے بات کی کہ مجھے Over Draw (اوور ڈرا) دوستم پانچ سو پچاس پونڈ ، تو میں چندہ دے دوں وہ میں نے قرض لے لیے۔کہتا ہے ایک ہفتے کے اندراندر قرض کے اتر