خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 288
خطبات ناصر جلد نهم ۲۸۸ خطبه جمعه ۱۶ را کتوبر ۱۹۸۱ء اس لئے جو ایک مومن مسلم سے مطالبہ کیا اسلام نے بنیادی طور پر صرف ایک وہ ہے۔وہ یہ ہے کہ سوائے اللہ کے کسی کے ساتھ تعلق قائم نہ کرو کسی کی طرف متوجہ نہ ہو۔کسی سے آس نہ رکھو سوائے خدا کے کسی پر تو گل نہ کرو۔اپنے سارے وجود کو اس کے حضور سونپ دو اور اپنی ساری قوتوں اور استعدادوں کو اس کی راہ میں خرچ کرو اس معنی میں کہ جو قو تیں اور استعدادیں اس نے عطا کی ہیں جس رنگ میں ان قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کا حکم قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اس طرح ان کی نشو ونما کرو اور ہر مطالبہ جو ہماری طاقت سے ہمارا رب کرتا ہے کہ اگر میرے جانثار ہو تو اپنی اس طاقت کو اس رنگ میں میرے حضور پیش کر دو، اس رنگ میں خدا تعالیٰ کے مطالبہ کے مطابق ہمیں پیش کر دینا چاہیے۔آسان بھی ہے کیونکہ جو چاہا گیا وہ ہماری فطرت میں رکھا بھی گیا۔جب کہا گیا کہ مجھ سے تعلق پیدا کرو تو ہماری فطرت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے سامان بھی پیدا کر دیئے۔مشکل بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا ہے شیطانی طاقتوں کو ، طاغوتی قوتوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب نہ ہونا چاہیں اور اس سے دوری کی راہوں کو اختیار کرنا چاہیں انہیں وہ ور غلا لیں اور اللہ کی جنتوں کی بجائے انہیں وہ خدا تعالیٰ کے جہنم ، آگ کی طرف لے جائیں۔یہ ایک کشمکش ہے انسانی فطرت اور طاغوتی طاقتوں کے درمیان لیکن انسان چونکہ کمزور تھا خدا تعالیٰ نے بہت سے ایسے سامان پیدا کئے کہ اپنی کمزوری کے باوجود وہ اپنے خدا کا ہی ہو کر زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔فرشتوں کو اس نے مقرر کیا کہ انسان کی ہدایت کے سامان پیدا کر لیں۔اپنے پیار سے اپنے ماننے والوں ، اپنے دامن کو پکڑنے والوں ، اپنے حضور جوسب کچھ اپنے وجود کا پیش کرنے والے ہیں ان کے لئے اتنی بشارتیں دے دیں، اتنی بشارتیں دے دیں کہ انسان ان کا حقدار تو نہیں بنا لیکن جب ہمارا رب دینے پر آتا ہے تو یہ تو نہیں دیکھتا وہ کہ میرا یہ بندہ حق رکھتا ہے یا نہیں۔وہ تو اپنے فضل کے ساتھ پھر جھولیاں بھر دیتا ہے اور دنیا کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔خدا کرے کہ ہم سب اُس گروہ میں شامل ہوں اور شامل رہیں جن کے متعلق قرآن کریم