خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد نهم ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۱۱ار ستمبر ۱۹۸۱ء (۷) بشارات سے معمور ہے۔محض ذمہ داریاں نہیں ڈالتا۔محض ترقیات کی راہ کی نشان دہی نہیں کرتا بلکہ وہ لوگ جو خدا کے ہو جاتے ہیں، ان کے لئے اس قدر عظیم بشارتیں اس کے اندر پائی جاتی ہیں کہ انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔(۸) تنبیہ کرنے والا ہے۔بڑا احسان ہے۔یہ جو انذار کا پہلو ہے، یہ حد و دکو قائم کر کے کہتا ہے اللہ کہ یہ میری حدود ہیں ان سے باہر نہ نکلنا ، بچ کے رہنا۔(۹) یہ کہ ہر ضروری تعلیم مختلف پیرایوں میں بیان کرنے والا صرفنا مناسب حال بھی انسان کو چیز مل جائے اور مختلف طبائع کے جو میلان ہیں ان کے مطابق ان کی اصلاح کے دروازے کھولنے والا ہے۔(۱۰) نور ہے۔سب ظاہر وباطن کے اندھیروں کو دور کرنے والی یہ کتاب ہے۔(۱۱) کتاب مبین ہے۔ہر چیز اس نے کھول کے ضرورت کے مطابق سامنے رکھ دی۔(۱۲) یہ کہ قرآن کریم صراط مستقیم پر چلانے کے لئے ہدایت ہے۔(۱۳) رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔(۱۴) سراسر نصیحت ہے۔(۱۵) تمام امراض سینہ کے لئے شفا ہے۔ایک مرض اندھا پن ہے۔وَ لكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج: ۴۷) قرآن کریم میں آیا ہے۔مگر بہر حال تمام امراض سینہ کے لئے شفا ہے۔(۱۶) دین اور معاش کے معاملات میں بصیرت دیتی ہے۔(۱۷) کوئی کبھی اس میں نہیں لا عِوَج۔عربی زبان میں ع۔و۔ج کا لفظ دو تلفظ رکھتا ہے۔ایک یہ ہے عو مج (عین کی زبر کے ساتھ ) اس کے معنی ہیں مادی ٹیڑھا پن۔مثلاً یہاں سے جو سڑک بنائیں ہم یا بنائی ہوگی تو اس میں کہیں نا کہیں ٹیڑھا پن آ گیا ہو گا۔اس کو عِو ہے نہیں کہتے اس کو عوج کہتے ہیں عربی میں اور جو فکری اور عقلی اور سوچ اور بچار میں جو اللہ تعالیٰ کی مثلاً صفات کے متعلق انسان سوچ رہا ہو اگر اس میں کجی آجائے تو عربی زبان میں اس کو عو حج کہتے