خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد نهم ۱۹۴ خطبہ جمعہ ۱۷؍جولائی ۱۹۸۱ء ہے زیادہ اور قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ سورہ بنی اسرائیل کے آخر میں فرماتا ہے۔وَ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ( بنی اسراءیل: ۱۱۰) اور وہ روتے ہوئے منہ کے بل گر پڑتے ہیں اور خدا کا کلام ( قرآن عظیم ) ان میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہے۔قرآن کریم کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ جو اسے سمجھنے والے ہیں ، ان کے اندر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی فطرت میں عبد بننے میں ممد ہونے کے لئے عجز اور انکساری اور تواضع کا مادہ رکھا ہے قرآن کریم ایسے حالات پیدا کرتا ہے کہ اس میں زیادتی ہوتی ہے۔لغوی لحاظ سے خَشَعَ کے معنی ہیں خَضَعَ - اِنْكَسَر اور خَضَعَ کے معنی ہیں تَوَاضَعَ۔تواضع اور عاجزی جو ہے ایک مومن بندے کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے صرف اس وقت ممکن ہے جب اسے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور اس کی صفات کی معرفت حاصل ہو اور قرآن کریم نے اس علم کے حصول کے لئے اتنے عظیم دروازے کھولے ہیں کہ انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔میر داؤد نے (رضی اللہ عنہ مرحوم ) وہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات اکٹھا کر کے ”مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے شائع کی اس میں ایک عنوان ہے اللہ تعالی تو اس کو آپ پڑھیں وہ حالانکہ اقتباسات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تو آپ کو پتہ لگے کہ قرآن کریم نے کس طرح میں سمجھتا ہوں پہلی بار یہ بھی ایک من مضمون ہے موازنے کا یعنی دوسرے مذاہب سے موازنہ کرنے کے لئے ) کھل کے اور وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کیا لیکن محض ایک تھیوری ، ایک فلسفہ، ایک علمی تحقیق کے طور پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ میں نے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ تم میری ہر صفت کے جلوے اپنی زندگی میں دیکھ سکتے ہو یعنی عملی مثال آپ اس کے ساتھ ہے جس کے بعد انکار کی گنجائش نہیں رہتی اور زندہ خدا کی زندہ طاقتیں جو ہیں، جو صفات ہیں وہ اس کی طاقتیں ہی ہیں نا، انہیں صفات بھی کہتے ہیں، الاسماء الحسنی بھی کہتے ہیں، زندہ طاقتیں بھی کہتے ہیں زندہ خدا کی زندہ طاقتوں کا وہ شخص مشاہدہ کرتا ہے جس کا اپنے رب کریم کے ساتھ ایک زندہ تعلق پیدا ہو جائے۔اور قرآن کریم