خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 85
خطبات ناصر جلد نهم ۸۵ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء طاقت دی کہ اپنی قوتوں کو استعمال کرو اور لَيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعى (النجم :۴۰) تمہیں کہا۔طاقتوں کا صحیح استعمال اور کامل استعمال تمہاری قوتوں اور استعدادوں کی کامل نشو ونما کے لئے ضروری ہے اور کہا یہ کہ یہ سب کچھ جو ہے، یہ حرکت، انسانی زندگی کی یہ خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والی ہے ، مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلا لِيَعْبُدُونِ (الداریت : ۵۷) بندہ بننے کے لئے۔اس غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی صفات اپنے اخلاق کے اندر پیدا کرے تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ الله لیکن فَمِنكُمْ كَافِرُ (التغابن : ۳) تمہیں آزادی تھی تم میں سے منکر بن گئے۔میرے ذہن میں تو یہ آیا کہ گناہ کی حقیقی تعریف یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی قوت کا غلط استعمال کرنا یا استعمال نہ کرنا ہے، گناہ ہے۔اگر ساری قوتیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو تَخَلُقُ بِأَخْلَاقِ اللہ کے لئے دیں تو ہر غفلت جو ہے وہ تَخَلُقُ بِأَخْلَاقِ اللهِ میں غفلت پیدا کرتی ہے وہ گناہ ہے۔وَ مِنْكُم مُّؤْمِنٌ (التغابن: ۳) ایک طرف کا فر ہیں تو دوسری طرف انتہائی قربانی دینے والے، ایثار پیشہ، جاں نثار مومن بھی پائے جاتے ہیں لیکن یہ فیصلہ کرنا کہ حقیقی اخلاص کسی سینہ اور کس دل میں ہے یہ انسان کا کام نہیں۔وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ - جو تمہارے اعمال اور ان کے اعمال کے پیچھے جو نیتیں ہیں جن نیتوں کے ساتھ تم اعمال کرتے ہو اسے صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔بسا اوقات انسان خود بھی اپنے نفس کو دھوکا دیتا ہے لیکن کوئی انسان کسی حالت میں بھی اپنے خدا کو دھوکا نہیں دے سکتا۔وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ - وَ لَهُ الْحَمْدُ دونوں آیات میں آیا ہے۔ایک میں پہلے ایک میں بعد۔بڑا علم ہے ” لَهُ الْحَمدُ کے فقرہ میں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کے متعلق مثلاً یہ کہا کہ تمام اقسام حمد سے کیا باعتبار ظاہر کے، اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے، فرما یا محامد کا ملہ کا جو مستحق ہے وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے، نیز ( مجھے خیال آیا ) کیا باعتبار جزا کے۔( یہ نہیں کہ فیصلہ کرتے ہوئے مجبور انسانوں کی طرح غلط فیصلہ کر دے ) اور کیا با عتبار سزا کے۔وہ خالق اور مالک ہے نا۔لَهُ الْمُلْكُ اور حاکم ہے۔اس واسطے اس کی صفت یہ ہے۔فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ (البقرة : ۲۸۵) جس کو