خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 86
خطبات ناصر جلد نهم ۸۶ خطبه جمعه یکم مئی ۱۹۸۱ء چاہے بخش دے، جس کو چاہے دوزخ میں ڈال دے۔کسی انسان کا یہ کام ہی نہیں کہ جہنم کے لئے وارنٹ جاری کر دے یا جنت کے لئے سرٹیفیکیٹ Issue (ایشو ) کرنا شروع کر دے فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو خدا کے کام ہیں وہ خدا کے لئے چھوڑو۔جو ہم عاجزوں کے کام ہیں ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی فکر کریں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اور اس چیز میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں ہے۔قرآن کریم نے یہ کہا ہے فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ۔کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ہے۔اسی طرح لَهُ الْحَمدُ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اپنی ذات وصفات میں کامل تعریف کا مستحق۔ایک یہ ہے کہ انسان بھی مجبور ہو جائے اس معرفت کے حصول پر کہ خدا تعالیٰ تمام تعریف کا مستحق ہے اس لئے کہ ایک حسنِ کامل ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ ( النور : ۳۶) اور ایک احسانِ کامل ہے اور یہ دونوں خوبیاں اللہ تعالیٰ کی ذات میں ہیں۔احسان کا تعلق تو اسی مخلوق سے ہو سکتا تھا جسے آزادی دی گئی تھی کیونکہ اس کی فطرت اسے سمجھ سکتی ہے۔تیسری بات ان حقائق کی روشنی میں بندہ یہ سمجھے اور اس پر ایمان لانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اِنِ الْحُكْمُ الا للہ اس لئے عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ جب حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اس لئے تو کل صرف خدا پر ہونا چاہیے اور میں تو گل صرف خدا پر کرتا ہوں نہ کسی اور پر ، نہ کسی حکومت پر تو گل نہ ان سے کوئی لالچ ، نہ کوئی خوشامد۔ہر ایک کو اس کا حق دو لیکن تو گل صرف، بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر کرو۔وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ (يوسف: ۶۸) جو تو گل کی حقیقت کو اور اس کی روح کو سمجھنے والے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ پر ہی تو کل کیا کرتے ہیں۔سورہ رعد میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( نمبر چار میں نے بتایا ہے میں تمہید کے Points بتا رہا ہوں ) أَو لَمْ يَرَوا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد : ۴۲) اور کیا انہوں نے دیکھا نہیں ہم ملک کو اس کی تمام اطراف سے کم کرتے چلے آرہے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے اور قرآن عظیم ایک کامل کتاب کی شکل میں آپ نے انسان کے ہاتھ میں دی اور وفات کے وقت بھی آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے پیچھے یہ کتاب چھوڑ کے جارہا ہوں، اگر تم اسے