خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 80 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 80

خطبات ناصر جلد نهم ۸۰ خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۸۱ء وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِن صُدُورُهُمْ اور تیرا رب اس کو بھی جانتا ہے جس کو وہ سینہ میں چھپاتے ہیں، ظاہر نہیں کرتے اور اسے بھی جسے وہ ظاہر کرتے ہیں۔اگر چہ یہاں ذکر اس مخلوق کا ہے جو انکار بھی کر سکتی ہے، خدا تعالیٰ کے احکام سے فرار بھی کر سکتی ہے، بغاوت بھی کر سکتی ہے، مانتی بھی ہے، قربانیاں بھی دیتی ہے، انتہائی بلندیوں تک بھی پہنچتی ہے لیکن اس کے بعد ایک بنیادی حقیقت کا ئنات کا ذکر کیا اور وہ یہ کہ وَهُوَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حقیقت کا ئنات ، وحدانیت باری تعالیٰ ہے لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ اور اللہ ہی کے لئے سب تعریفیں ہیں۔اللہ کے سوا حقیقی تعریف کا کوئی بھی مستحق نہیں۔اتنا ہی مستحق ہے جتنا مستحق ہمارا خدا کسی کو یا ہمیں بنا دے۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ابتدائے آفرینش میں بھی وہ تعریف کا مستحق تھا اور آخرت میں بھی وہ تعریف کا مستحق ہوگا سب بادشاہت اسی کے قبضہ میں ہے اور تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہو گا۔له الحمد تمام محامد کا ملہ کا وہ لائق اور مستحق ہے یہاں ذکر تو نہیں لیکن ظاہر ہے کہ جس ہستی میں تمام محامد کا ملہ پائے جائیں اس میں کوئی نقص اور کمزوری نہیں پائی جائے گی۔انسانی عقل بھی اس نتیجہ پر پہنچتی ہے لیکن اس کے مثبت پہلو کو یعنی اللہ تعالیٰ کی جو صفاتی بنیادی ایک حقیقت ہے اسے پہلے بیان کیا لَهُ الْحَمدُ وہ تمام محامد کا ملہ کا مالک ہے اور اس مقام سے کہ اللہ تعالیٰ سب تعریفوں کا مستحق ہے اپنی ذات میں اس کی صفات کے جلوے ظاہر ہوئے اور کائنات پیدا ہوئی اور کائنات میں وَ لَهُ الْحُكْمُ صرف اسی کا حکم اس کا ئنات میں جاری ہے۔جیسا کہ میں نے شروع میں اشارہ کیا کائنات کے دو حصے ہیں۔ایک وہ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ( التحریم : ۷) جو خدا کا حکم ہے، وہ کرتے ہیں چاند کو خدا کے جو احکام ملے ، چاند نے وہ کام کرنے شروع کر دیئے ، جو سورج کو ملے وہ سورج نے کام کرنے شروع کر دیئے اور ایک وہ چھوٹی سی مخلوق ہے جس کے لئے ایک لحاظ سے یہ کائنات پیدا کی گئی جس کو آزادی دی اور اس کو یہ اختیار دیا کہ اپنی مرضی سے اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے تکلیف برداشت کر اور قربانیاں دے اور عشق کی آگ اپنے سینے میں جلا اور خدا تعالیٰ سے انتہائی محبت اور پیار کر اور خود اپنی رضا سے