خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page ix
VII نہیں۔واقفین وقف جدید کی اپنی تربیت اور تعلیم کا ایک علیحدہ نظام ہے۔واقفین وقف جدید جو ہیں عمروں کے لحاظ سے چھوٹی عمر کے اور تجربہ کے لحاظ سے کم تجربہ ہیں۔اس لئے ایک تو میں نصیحت کروں گا انجمن وقف جدید کو کہ جو واقفین وقف جدید ان کے پاس ہیں، ان کی علمی اور علم کی بنیاد پر اخلاقی اور روحانی تربیت میں زیادتی کرنے کا ایک منصوبہ بنائیں اور وہ منصوبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کے پڑھنے، سمجھنے اور اس کے نتیجہ میں وہ اثر قبول کرنے کا ہو جو ایک متقی دل ان کتب کو پڑھ کے اثر قبول کرتا ہے۔“ ۱۰ ۲۲ جنوری ۱۹۸۲ ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے جماعت کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:۔” جو انسان پیدا ہوتا ہے وہ بوڑھا ہوجاتا ہے، کام کے لائق نہیں رہتا یا فوت ہو جاتا ہے اور اپنے رب سے اپنے اعمال کی جزا پاتا ہے لیکن الہی سلسلہ کو جس نے ساری دنیا میں دین الحق کو غالب کرنا ہے ان کے قائم مقام ملتے رہنے چاہئیں، اگر پہلوں سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم پہلوں جیسے۔میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ عرصہ سے جماعت ( یہ جماعت کی اجتماعی زندگی کا تقاضا ہے ) اس طرف توجہ نہیں دے رہی اور میں نے محسوس کیا ہے کہ اگر ہم نے فوری اس طرف توجہ نہ دی تو ایک بڑا خطر ناک دھ کا بھی لگ سکتا ہے ، نقصان بھی پہنچ سکتا ہے سلسلہ عالیہ احمدیہ کو۔“ 66 ۱۱ ۱۹ مارچ ۱۹۸۲ ء کے خطبہ جمعہ میں روحانی ترقی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا:۔آگے بڑھو ، آگے بڑھو۔اصل چیز ہے روحانیت میں آگے بڑھو۔خدا تعالیٰ کی عظمتوں کے عرفان میں آگے بڑھو۔اس کے لئے دعائیں کریں، اس کے لئے غور کریں۔اس کے لئے قرآن کریم پڑھتے ہوئے یہ دعا کریں کہ اولوا الا لباب میں اللہ تعالیٰ ہمیں شامل کرے۔اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے اور اپنے فضلوں سے ہمیں نوازے اور وہ دے ہمیں جو دینے کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔“ ۱۲۔۲۱ مئی ۱۹۸۲ء کے اپنے آخری خطبہ جمعہ میں حضور انور نے خطبہ ثانیہ سے قبل فرمایا:۔کئی نئے احمدی ہوتے ہیں، کئی بچے جوان ہوتے ہیں، اصل دستور یہ ہے کہ دو خطبوں کے درمیان بیٹھا جائے۔میں جب سے گھوڑے سے گرا ہوں میں بیٹھ نہیں سکتا اس طرح۔یہ میری