خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 71
خطبات ناصر جلد نهم اے خطبه جمعه ۱/۳ پریل ۱۹۸۱ء نہیں دوں گا۔واپس چلے جاؤ۔اس قدر حسین اور عظیم جلوے، عہد کو پورا کرنے کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ میں ہمیں نظر آتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر ہی ہم اللہ تعالیٰ کے اس پیار کو حاصل کر سکتے ہیں جس کا اس دوسری آیت میں ذکر ہے۔الِ عمران کی ہے یہ آیت فَانَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ خدا تعالیٰ کے پیار کو ہم تبھی حاصل کر سکتے ہیں جب اس معاملہ میں بھی ، اس عمل میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو سامنے رکھیں اور اس کے مطابق اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔اس زمانہ میں ( خدا تعالیٰ کی مجسم قدرت حضرت اقدس ) مبعوث ہوئے اور آپ کے گرد ایک چھوٹی سی جماعت جو شروع سے اب تک بڑھتی چلی آرہی ہے اور اب بھی جب کہ ہمارے اندازے کے مطابق (اور یہ ایک عام اندازہ ہے ) ایک کروڑ کے قریب ہوگئی ہے۔بنی نوع انسان کی جو تعداد اس کرہ ارض پر ہے، اس کے مقابلے میں ایک کروڑ کی جماعت کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن ایک سے ایک کروڑ بن گئے۔بہر حال وہ جو خود کو حضرت مہدی علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں انہوں نے اپنے خدا سے ایک عہد باندھا ہے جو بنیادی طور پر جماعتِ احمد یہ کی زندگی کا مقصد ہے اور وہ عہد یہ ہے کہ ہم دنیا میں ، ساری دنیا میں ، اس وسعتوں والی دنیا میں اس ظالم دنیا میں ، اس دولت مند دنیا میں ہم جو غریب اور دنیا کے دھتکارے ہوئے ہیں دینِ اسلام کو پھیلائیں گے اور اس غرض کے لئے اپنی ہر چیز جو یہ مقصود ہم سے مطالبہ کرے، قربان کر دیں گے۔آج کا دن مشاورت کا دن ہے۔ہر سال یہ دن بڑی ذمہ داریوں کو لے کر ہماری زندگی میں آتا ہے کیونکہ ہم نے دین اسلام کی اشاعت کے لئے قربانیوں کا ایک پروگرام بنانا ہوتا ہے۔مشورے کرنے ہوتے ہیں۔مشورے دینے ہوتے ہیں۔قربانیوں کے اندازے لگانے ہوتے ہیں۔ضرورتوں کو سامنے رکھنا ہوتا ہے اور ہم بھی عاجز اور ہماری فراست اور ہمارے ذہن بھی بے حقیقت۔جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال نہ ہو اور جب تک ہم متقی ہو کر اس کے پیار کو حاصل کرنے والے نہ ہوں ، یہ منصوبے نہیں بنا سکتے۔