خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page vii of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page vii

V ہیں، یہاں آتے ہیں، بات کرتے ہیں اور ہر عربی بولنے والا احمدی یہ کہتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دنیا کے سامنے جو قرآن کریم کی تفسیر آئی ہے اس کا اس قدر اثر ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ہم فوراً احمدیت قبول کر لیتے ہیں۔اتنا اثر ہے اس کے اندر۔وہ کہتے ہیں ہمیں اور کچھ نہیں چاہیے تمام کتب کا عربی ترجمہ ہمیں کر کے دیں۔اس کے بغیر محرومیت کا دور جو ہے وہ لمبا ہو رہا ہے۔“ ۵۔۱۸ ستمبر ۱۹۸۱ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے باہمی پیارو محبت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:۔’ہر جماعت کی نمائندگی اپنے اپنے اجتماع میں ہونی چاہیے۔اس کی ذمہ داری ایک تو خود ان تنظیموں پر ہے لیکن اس کے علاوہ تمام اضلاع کے امراء کی میں ذمہ داری لگا تا ہوتا ہوں اور تمام اضلاع میں کام کرنے والے مربیوں اور معلموں کی یہ ذمہ داری لگا تا ہوں کہ وہ گاؤں گاؤں، قریہ قریہ جائے، ایک دفعہ نہیں ، جاتے رہ کر ان کو تیار کریں کہ کوئی گاؤں یا قصبہ جو ہے یا شہر جو ہے وہ محروم نہ رہے، نہ پنجاب میں ، نہ سرحد میں ، نہ بلوچستان میں ، نہ سندھ میں اور اس کے متعلق مجھے پہلی رپورٹ امرائے اضلاع اور مربیان کی طرف سے عید سے دو دن پہلے اگر مل جائے تو عید کی خوشیوں میں شامل یہ خوشی بھی میرے لئے اور آپ کے لئے ہو جائے گی اور دوسری رپورٹ پندرہ تاریخ کو یعنی جو اجتماع ہے خدام الاحمدیہ کا غالباً ۲۳ کو ہے تو اس سے پہلے جمعہ کو سات دن پہلے وہ رپورٹ ملے کہ ہم تیار ہیں۔ہر جگہ سے، ہر ضلع سے، ہر گاؤں، ہر قریہ، ہر قصبہ ہر شہر اس ضلع کا جو ہے اس کے نمائندے آئیں گے۔“ ۶۔۶ نومبر ۱۹۸۱ء کے خطبہ جمعہ میں حضور انور نے اپنے ایک الہام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ہم سے ء میں خدا تعالیٰ نے الہاما مجھے کہا تھا وسّع مكانك میں نے اس وقت جماعت کو بتا دیا تھا کہ خدا نے کہا ہے کہ یہ جو ۱۹۷۴ء کا منصوبہ بنا تھا استہزا کا، ہمیں ذلیل کرنے کا، اس کے لئے میں کافی ہوں اور میرے مہمانوں کا تم انتظام کر دو شعُ مَكَانَك - تو اللہ تعالیٰ نے اتنی توفیق دی ۷۴ء میں جو تعمیر کے حالات تھے اس سے ۴۰،۳۰ گنا زیادہ حالات ہو گئے ہیں۔حالات سے مراد ہے پیسہ لوگوں کے پاس آ گیا۔“