خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 38 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 38

خطبات ناصر جلد نہم ۳۸ خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۱ء دعاؤں کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے، حقیقی علم۔عظ وعدے اور بشارتیں اور جزا اور اجر بڑا ہی تعلیم ہے۔جو احکام ہیں ان میں وسعت ہے لیکن حرج نہیں۔کوئی تنگی نہیں ہے۔کوئی ایسا حکم نہیں قرآن کریم میں کہ جو انسان کر نہ سکے۔ہر وہ حکم جو قرآن کریم نے دیا ہے ہر صحت مند انسان اسے بجالا سکتا ہے۔جو ایسے بیمار ہوں انسانوں میں سے، جو سمجھ ہی نہ سکیں۔بعض انسانوں میں سے ایسے ہیں کہ ان کا دماغ خراب ہے مثلاً انہیں ہمارے محاورے میں مرفوع القلم کہتے ہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں نہیں آتے لیکن وہ بیماریاں جو عارضی طور پر آتی ہیں ان میں یہ تعلیم، یہ عظیم قرآن جو ہے، یہ دین اسلام جو ہے وہ سہولتیں دیتا چلا جاتا ہے مثلاً نماز ہی کو لے لو۔ہر شخص کے لئے ، اگر کوئی جائز عذر نہ ہو، پانچوں وقت مسجد میں باجماعت ادا کرنا ضروری ہے لیکن اگر ایک شخص بیمار ہے وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تو اس کو اجازت دی گھر میں پڑھ لو۔اگر کوئی شخص بیمار ہے وہ کھڑے ہو کر نماز جس طرح ادا کرنی چاہیے اس طرح ادا نہیں کر سکتا اسے حکم ہے کہ بیٹھ کے نماز پڑھ لو۔اگر کوئی شخص اتنا بیمار ہے کہ بیٹھ کے نماز نہیں پڑھ سکتا اسے یہ اجازت دی گئی کہ تم نماز کے اوقات میں لیٹے ہوئے نماز ادا کرلو۔اگر کوئی شخص اتنا بیمار ہے کہ لیٹ کے بھی اشارے نہیں کر سکتا تو اسے یہ کہا گیا کہ اپنے ذہن میں تقسیم کر لو قیام اور رکوع سجدہ اور قعدہ وغیرہ کو اور دعائیں کر لو تمہاری نماز جو ہے قبول ہو جائے گی۔اگر نیت میں اخلاص ہوگا خرابی نہیں ہوگی۔اگر کوئی شخص عارضی طور پر بے ہوش ہو گیا ہے۔کئی ایسے ہیں جن کو مثلاً دس دن یا پندرہ دن یا بیس دن بے ہوشی کی حالت طاری رہتی ہے اسے یہ کہا گیا ہے کہ جب تمہیں ہوش آئے نمازیں شروع کر دو۔- روزہ ہے، بڑی برکتیں لے کر آتا ہے ماہ رمضان ، حرج نہیں اس میں اگر کوئی شخص روزہ نہیں رکھ سکتا اسے اجازت دی گئی ہے کہ ان دنوں میں وہ روزہ نہ رکھے۔آج کے زمانہ میں جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں روزہ رکھ سکتا ہوں اس کو بھی کہا کہ تم روزہ نہ رکھو جب سفر پہ ہو۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ سفر آسان ہو گئے سفر میں روزہ نہ رکھنے کا جو حکم تھا یہ اس زمانے میں تھا جب سفر مشکل تھا۔انسان روزہ رکھ لے تو اس کے لئے بہت زیادہ تکلیف کا باعث بن سکتا تھا۔وہ یہ بھول