خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 39 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 39

خطبات ناصر جلد نهم ۳۹ خطبه جمعه ۶ / مارچ ۱۹۸۱ء جاتے ہیں کہ جس اللہ تعالیٰ نے مشکل سفر کے زمانہ میں یہ حکم نازل کیا وہ اس آسانی کے زمانہ کو اسی طرح جانتا تھا جس طرح اس زمانہ کو وہ جانتا تھا اور سب کچھ جانتے ہوئے اس نے یہ رعایت دی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی دی ہوئی رعایتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا اس کے اندر تکبر ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے زور کے ساتھ خدا تعالیٰ کو راضی کر سکتا ہوں جہاں اللہ تعالیٰ نے رعایت دی ہے، رعایت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔تو اس میں تو شک نہیں کہ قرآنی تعلیم اپنے احکام کے لحاظ سے اور پھر جو آگے ان کی شاخیں نکلتی ہیں اس لحاظ سے بڑی وسعت رکھتی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جو اسلامی تعلیم ہے اس کا کوئی ایک حکم انسانی زندگی کے کسی ایک لمحہ میں بھی ایسا نہیں جو اس کے لئے حرج کا ، تکلیف کا باعث ہو ، دکھ کا باعث ہو۔اس واسطے کہ استثنائی حالات میں جو دکھ بن سکتا تھا یا اس شخص کے لئے بوجھ بن سکتا تھا اس کو رعایت دے دی۔جہاں انسان نے اپنے حق کو نہیں پہچانا وہاں اللہ تعالیٰ نے اس کے حق کو پہچانا اور اسے رعایت دی قرآن کریم کے بعض احکام ایسے ہیں جو بنیادی ارکان ہیں لیکن ہر حکم جو خدا تعالیٰ کا ہے اطاعت کے لحاظ سے وہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا نماز پڑھنا۔یعنی اگر کوئی دماغ یہ سوچتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت بعض احکام میں تو ضروری ہے اور بعض احکام کے لحاظ سے ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے باغی ہو کے کھڑے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ ہمیں کچھ نہیں کہے گا۔ایسے دماغ کو بیمار دماغ یا فاسق دماغ کہا جاسکتا ہے یا منافق دماغ کہا جاسکتا ہے یا غیر مومن دماغ کہا جا سکتا ہے لیکن ایسا دماغ نہیں کہا جاسکتا جو خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والا ہو۔خدا تعالیٰ تو ہر وقت رحم کرنے کے لئے ، برکتیں نازل کرنے کے لئے تیار ہے مگر جن نالیوں سے وہ آپ تک اپنی برکتیں پہنچانا چاہتا ہے ان نالیوں کو اپنے منہ میں لو۔جس طرح و ہStraw نکل آیا ہے بوتلیں پینے کے لئے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رستے بنائے ہوئے ہیں اپنی رحمتوں کو نازل کرنے کے لئے۔قرآن کریم کہتا ہے۔لَا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيمًا (النساء : ۱۰۶) کہ جو خائن لوگ ہیں ان کی طرف سے وکالتیں نہ کیا کرو، سفارشیں نہ لے کے جایا کرو۔میرا خیال ہے کہ ہمارے اس معاشرے میں شاید کسی کو یہ پتہ ہی نہیں کہ قرآن کریم کا یہ حکم بھی ہے۔اس کثرت کے ساتھ اس