خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 486
خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۶ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء کو انہوں نے کہا ہوا تھا کہ مجھ سے پیسے لے کر وصیت ادا کیا کریں۔وہ گئے ہوئے تھے باہر اور یہ تھیں بے چین کہ میرے پاس پڑے ہوئے ہیں پیسے۔بار بار مجھ سے پوچھیں کہ کب آ رہے ہیں وہ۔میں نے وصیت کی رقم ادا کرنی ہے۔وہ بے چینی دیکھ کے میں نے کہا کہ مجھے دے دیں میں وہاں بھجوا دیتا ہوں اور رسید آ جائے گی۔کہا کہ نہیں آپ کو نہیں دینے اور دراصل مجھ سے بھی یہ چھپا رہی تھیں کہ میں نے ۱/۱۰ سے اٹھا کے ۱۱۷ کی وصیت کی ہوئی ہے۔وہ سمجھتی تھیں کہ وصیت کے لحاظ سے موصیہ کا جو مقام ہے وہ اپنے خاوند کے ساتھ جو تعلق ہے اس سے بہت بڑا ہے۔خدا تعالیٰ کے لئے میں دے رہی ہوں مجھے اپنے خاوند کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ میں اپنے خدا کے حضور کیا پیش کر رہی ہوں۔پس ایسے مرد اور عورتیں کہ جو اس قسم کی قربانیاں دے سکتے ہیں۔دیں گے انشاء اللہ اگر ان کی Guidance ( گائیڈنس ) اور رہنمائی اور ہدایت کے سامان صحیح ہوتے رہیں۔جو ایسے نہیں وہ اپنے آپ کو وصیت کر کے خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ذلیل کرنے کی کوشش نہ کریں۔نظام وصیت سے باہر بھی وہ را ہیں اسی طرح کھلی ہیں جس طرح پہلے کھلی تھیں جوخدا تعالیٰ کی محبت کو پاتیں اور خدا تعالیٰ کی جنتوں کی طرف لے جانے والی ہیں لیکن قرآن کریم کی ہدایت کی روشنی میں مومن اور مومن میں فرق ہے۔بعض جگہ خالی مُؤْمِنِینَ کہا گیا یا مُؤْمِنُونَ کہا گیا اور بعض جگہ مُؤْمِنُونَ حَقًّا کہا گیا۔اور فرق بھی کیا ہے۔وہ میرا مضمون نہیں اس کی تفصیل میں میں نہیں جاتا لیکن مُؤْمِنُونَ حقا وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے اتنا کہ اپنے آپ کو فانی کر دینے والے۔جہاں سے تمہیں کچھ چیز ملے اس کے لئے محبت پیدا ہوتی ہے جہاں تم خوبصورتی دیکھو اس کے لئے پیار پیدا ہوتا ہے جس شخص پر خدا تعالیٰ اپنے احسان اور اپنے محسن کے انتہائی ارفع جلوے ظاہر کر دے۔وہ تو بس مر ہی جاتا ہے خدا کے لئے۔یہ ہے نظامِ وصیت اسے پہچان کر نظامِ وصیت میں داخل ہوں۔خدا کرے کہ ہزاروں میں داخل ہوں لاکھوں میں داخل ہوں لیکن اس مقام سے نیچے رہ کر نہیں کہ اپنے لئے بھی ذلت کا سامان پیدا کریں گے اور جماعت کے او پر بھی ایک دھبہ سا لگے گا۔خدا تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے اور خدا تعالیٰ ہمیں عزم اور ہمت دے کہ نظام