خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 485

خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۵ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء بتیں مہر میں سے تین روپے کی قربانی ساری عمر میں دی اور وہ نظام وصیت کے لحاظ سے موصیہ بن گئی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اس کے مقابلہ میں میں جانتا ہوں کہ احمدی بہنوں میں سے وہ بھی ہیں جو تین روپے کے مقابلہ میں تین لاکھ روپے مالی قربانی دے کر بھی اپنے آپ کو نظامِ وصیت کے مرتبہ پر نہیں سمجھتیں اور وصیت نہیں کرتیں۔پس جو صاحب فراست عورت یا جو صاحب فراست مرد نظام وصیت کی حقیقت سمجھتا ہے، منتظمین نظام وصیت کو کم از کم اتنی سمجھ تو ہونی چاہیے۔باقی یہ جو مثلاً نئی شادی ہوئی ایک ہزار مہر رکھا۔وہ ایک ہزار مہر اس لئے رکھا کہ بتیس روپے مہر سے عورتوں کو چھٹکارا دلا دیا اور ناجائز بوجھوں سے اپنے غریب بھائیوں کو چھٹکارا دلا دیا۔اب موجودہ زمانہ میں ایک یہ رسم ہے کہ کہہ دیتے ہیں منہ سے کہ فارم کے اوپر لکھ دو پچاس ہزار، نہ دینا، کسے دھوکہ دے رہے ہو۔دنیا کو یا خدا کو یا اپنی ضمیر کو یا اپنی بیوی کو یا اپنے سسرال کو یا اپنے میکے کو یعنی اپنے ہی خاندان کو ، کسے دھوکا دے رہے ہو؟ یہ نمائش دائرہ احمدیت و اسلام سے باہر ہو سکتی یہ جھوٹی نمائش دائرہ اسلام واحمدیت کے اندر نہیں ہو سکتی۔سیدھے سادے مسلمان مومن بننے کی کوشش کرو۔خدا سے پیار کرو اتنا کہ کوئی دوسرا انسان وہ پیار خدا کو نہ دے سکے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت کرو اتنی کہ دوسرے سمجھ ہی نہ سکیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عشق ہو سکتا ہے۔قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے قرآن کے گرد گھومو کہ تمہاری ساری ضرورتوں کو وہ پورا کرنے والی تعلیم ہے۔اور جماعت احمدیہ میں ایک بڑا گر وہ ان موصیان کا ہونا چاہیے جو اس ارفع مقام تک پہنچنے والے ہوں جن کا میں نے ذکر کیا۔پھر یہ جو انتہائی قربانیاں دینے والا جو خدا تعالیٰ کے عشق میں مست اپنی زندگیاں گزارنے والا ہے۔وہ کمزوروں کے بوجھ اٹھا لیتے ہیں اور جماعت کو پھر کسی قسم کی کمزوری نہیں پہنچتی ، نقصان نہیں پہنچتا۔تو وہ موصی آگے بڑھیں جو وصیت کے نظام کے مقام کو پہنچاننے والے اور عزم اور ہمت رکھنے والے۔میں اپنے گھر کی مثال دیتا ہوں۔اب منصورہ بیگم نے ۱/۷ کی وصیت کر دی۔میرے ذہن میں کم از کم نہیں تھا اور مجھے عجیب لگتا تھا کہ بعض دفعہ کسی Source سے کوئی آمد ہوتی تو ایک ناظر صاحب