خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 484 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 484

خطبات ناصر جلد نهم ۴۸۴ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۸۲ء مَكَارِمَ الْأَخْلاقِ میری بعثت کی ایک غرض یہ ہے کہ میں مکارم اخلاق کو اپنے پورے کمال تک پہنچا دوں جس سے بڑھ کر اور کوئی کمال ممکن نہیں۔عربی زبان میں اتمام کے یہ معنی ہیں۔تو نظامِ وصیت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ مکارم اخلاق کے میدانوں میں موصیوں کی گرد کو بھی غیر موصی پہنچنے والے نہ ہوں۔ہر ایک سے پیار کرنے والے، ہر ایک کو عزت سے پکارنے والے، جھگڑا نہ کرنے والے، کافر و مومن سے ہمدردی اور خیر خواہی کرنے والے، دنیا کی بھلائی کے لئے راتوں کو جاگ کر خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھک کر دعائیں کرنے والے۔غرض وہ سینکڑوں شعبے مکارم اخلاق کے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اور عملی زندگی میں جن کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا ان شعبوں میں غیر موصی سے کہیں آگے بڑھنا نظام وصیت اس کا مطالبہ کرتا ہے۔نظام وصیت اس کا مطالبہ کرتا ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی میں موصی پر کوئی دھبہ ایک سوئی کے Point کے برابر بھی نہ پڑے۔نظام وصیت یہ مطالبہ کرتا ہے کہ حقوق اللہ جسے کہا جاتا ہے چکر کھا کے وہ پھر حقوق العباد ہی بنتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ تو کسی کا محتاج نہیں بہر حال ایک ہماری اصطلاح ہے حقوق اللہ کی ادائیگی میں سب کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اتنی دور آگے نکل جائیں گے غیر موصی سے کہ غیر موصی کی نگاہ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکے گی۔یہ ہے نظام وصیت ! اس کو بگاڑ کر اس عظیم احسان کی ناقدری نہ کرو جو عظیم احسان اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے نوع انسانی پر کیا۔جو منتظمین ہیں وہ بھی نہیں سمجھتے۔عجیب و غریب وصیتیں میرے پاس آجاتی ہیں منظوری کے لئے۔مجھے غصہ بھی آتا ہے۔غصے کو پیتا بھی ہوں۔مجھے دکھ بھی پہنچتا ہے۔اس دکھ کو میں سہتا بھی ہوں لیکن میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ جس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کے پیارے محمدصلی اللہ علیہ وسلم جن سے بڑا کوئی نبی نہیں جن سے بڑا کوئی انسان نہیں۔جن سے بڑا کوئی محسن نہیں۔انہوں نے اس زمانہ میں اپنی روحانی قوت کے نتیجہ میں مہدی اور مسیح کے ذریعہ سے نوع انسانی پر احسان کرتے ہوئے رَحْمَةٌ لِلعالمین ہوتے ہوئے ، رحمت کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے جو احسان کیا ہے اس میں کمزوری نہ پیدا ہو۔یہ میرا فرض ہے۔یہ جماعت کا فرض ہے۔سمجھتے ہیں کہ بیوی نے