خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 475 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 475

خطبات ناصر جلد نہم ۴۷۵ خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۸۲ء ہی نہیں بنتی اس کی۔یعنی کوئی شخص یہ کہے کہ میں خدا کو پیارا اس لئے ہوں کہ اگر چہ میں اس کی مخلوق کے حقوق کو غصب کرنے والا ہوں لیکن اس کے سامنے گھنٹوں گر کے عاجزانہ دعائیں کرنے والا ہوں تو ہم کہیں گے کہ جھوٹے ہو تم ! اگر تم خدا کو پہچانتے تو خدا کے بندوں کو ایذا نہ پہنچاتے۔ہماری تاریخ میں، جو بظاہر نیکی کی تحریک تھی ، وہ دوحصوں میں منقسم ہوگئی۔ایک کی موٹی مثال ہم فقہ سے دے سکتے ہیں یعنی اس چیز میں پڑ گئے کہ وضو اس طرح کرنا ہے۔اگر وضو کرتے ہوئے کہنی جو ہے وہ خشک رہ گئی تو اللہ تعالیٰ سزا دے گا وغیرہ وغیرہ۔ان چیزوں، باریکیوں میں پڑ گئے ، فقہاء کہلائے۔اور دوسرا بڑا گر وہ تھا وہ صوفیاء کا تھا۔تصوف جو ہے سوائے حسن اخلاق پر زور دینے کے کسی اور چیز کا نام نہیں۔بعد میں تنزل پیدا ہوا صوفیاء کے مسلک میں بھی اور جو حقیقت تھی وہ نظر انداز ہوگئی ایک زمانہ کے بعد اور مرور زمانہ کے نتیجہ میں ، یہ اور بات ہے لیکن سید عبد القادر جیلانی ہیں، یہ سارے بزرگ تصوف کے میدان میں جنہوں نے خدمت کی ہے اسلام کی سینکڑوں پیدا ہوئے اور سارا زور ان کا اخلاق کے اوپر تھا اور اتنی باریکیوں میں گئے ہیں کہ انتہا نہیں۔مثلاً زبان ہے۔زبان کے اوپر حسن اخلاق کے لئے یہ پابندیاں لگائی ہیں۔قول نہیں کافی ، قولِ سدید ہونا چاہیے۔ہر وقت بولنا نہیں۔آزادی ہے بولنے کی ویسے تو اسلام کہتا ہے بولنے کی اجازت ہے لیکن بولنے کے نتیجے میں فساد پیدا کرنے کی اجازت نہیں۔تو ان باریکیوں میں صوفیاء گئے ہیں، ایک ایک چیز لے کے اور اس کے اوپر زور دیتے چلے گئے ہیں۔اصل چیز تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ ہے۔اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے جو ہیں ان کو آدمی پہچاننے لگے اور عرفانِ باری ایک محاورہ ہم نے بنالیا ) حاصل ہو اور خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے تو بے شمار ہیں۔ایک دن میں اتنے ہو جاتے ہیں کہ ساری دنیا کے انسان کے دماغ ان کو اپنے احاطہ میں نہیں لے سکتے لیکن ہر شخص اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اپنے ماحول میں جلوے دیکھ سکتا ہے اگر وہ چاہے۔ادھر توجہ کرنی چاہیے کس طرح خدا تعالیٰ اپنے بندوں سے پیار کر رہا ہے؟ قرآن کریم نے جو یہ اعلان کیا کہ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَانَمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (المائدة : ۳۳) کہ انسانی جان کی حرمت اتنی عظیم