خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 476
خطبات ناصر جلد نہم خطبه جمعه ۱/۲۳ پریل ۱۹۸۲ء ہے کہ بغیر حق کے ایک جان لینا، انسانیت کا خون کرنا ہے۔اس کے مقابلے میں خدا تعالیٰ کی رحمت کا جلوہ بھی ہمیں نظر آتا ہے۔اب نئی تحقیق نے یہ معلوم کیا کہ انسان اپنی روزمرہ کی معمولی زندگی میں ایک گھنٹے میں ہزاروں موتوں میں سے گزرتا اور خدا تعالیٰ اس کی جان کی حفاظت کرتا ہے۔ان جلووں کو دیکھ کر اور خدا تعالیٰ کی اس صفت کو ملاحظہ کر کے انسان اپنی ذمہ داری کو سمجھ سکتا ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کتنی ضروری ہے اور انسانی جان کی حفاظت ہر موقع اور ہر لحاظ سے فساد نہ کرتے ہوئے ، فساد کو مٹا کر ( ہزار طریقے ہیں اس کی حفاظت کے ) خدا تعالیٰ کی اس۔صفت کا رنگ اپنی صفات کے اوپر ہم پھیر سکتے ہیں، وہ رنگ ہمارے اندر روشن ہوسکتا ہے۔کھانا ہے۔قرآن کریم نے اعلان کیا۔وَاَنْتُمْ تَزْرَعُونَةٌ أَمْ نَحْنُ الزُّرِعُونَ (الواقعة: ۶۵) خدا تعالیٰ کی صفات کا ایک جلوہ یا جلووں کا ایک مجموعہ، گروپ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسانی زندگی اور بقا کے لئے خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے ایک غذا پیدا کرتا ہے جو انسان کے بس کی بات نہیں۔جس طرح میں نے بتایا انسانی جان کو ایک گھنٹے میں ہزاروں موتوں سے وہ بچاتا اور اس کی غذا کو بھی ہزاروں ہلاکتوں سے محفوظ رکھتا ہے۔انسان اپنی حماقت اور جہالت کے نتیجہ میں سمجھتا ہے کہ میں نے اپنے لئے غذا پیدا کی۔خدا کہتا ہے میرے جلووں کی پیروی کر کے، اپنی صفات میں میرا رنگ پیدا کر کے، میرا قرب حاصل کر کے، میرے فضل اور رحمت کو لے کر تم اپنی اور اپنوں کے لئے غذا پیدا کر سکتے ہو ورنہ نہیں کر سکتے۔اور اس بات کو عملاً ظاہر کرنے کے لئے ایسا کرتا رہتا ہے۔اب گندم تیار ہے۔ایک سال یہ ہوا ہمارے ربوہ میں کہ بالکل کٹائی کے لئے تیار تھی۔دانہ پڑ چکا تھا بیچ میں ، ذرا کچا تھا۔دو چار دن کے اندر اس کو کاٹنا تھا زمیندار نے تو ربوہ کے ماحول میں ایک چھوٹی سی بدلی آئی اور ژالہ باری شروع ہو گئی۔کسی کھیت کو سارے کا سارا تباہ کر دیا، ایک سٹہ بھی نہیں چھوڑا اس کا۔کسی کھیت کے، محاورہ ہے ۷۵ فیصد کی بجائے ہم کہتے ہیں، بارہ آنے تباہ کر دیئے۔کسی کے آٹھ آنے تباہ کر دیئے۔کسی کی چوٹی تباہ کر دی۔کسی کا آنہ تباہ کر دیا اور ساتھ کا کھیت ایسا بھی تھا جس کا ایک سٹہ بھی نہیں تباہ ہوا۔ایک بدلی چکر لے رہی ہے خدا کے حکم سے چھوٹی سی بدلی ، اولے برسنے شروع