خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 468 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 468

خطبات ناصر جلد نهم ۴۶۸ خطبه جمعه ۱۶ را پریل ۱۹۸۲ء اس لئے آج میں جہاں ایک طرف جماعت احمدیہ سے یہ کہوں گا کہ وہ نوع انسانی کی خاطر خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ خدایا! تو نے ہمیں عقل تو دی ہے، فراست تو عطا کی ہے لیکن سامان اور مادی اسباب نہیں دیئے کہ ہم فساد کو دور کر سکیں، ہم تیرے حضور جھکتے اور عاجزانہ تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ تو ہماری دعاؤں کوسن اور انسان کو عقل اور فراست عطا کر کہ وہ اپنے بھلے، برے کی تمیز کر سکے۔اور دوسرے میں تمام اقوامِ عالم کو پھر سے تنبیہ کرنا چاہتا ہوں جیسے آج سے قبل ۱۹۶۷ء میں انگلستان میں ایک موقع پر میں نے بڑی وضاحت سے انہیں کہا تھا کہ اگر تم ساری اقوام جو بعض لحاظ سے مہذب اور ترقی یافتہ ہو اپنے رب کریم کو پہچان کر اس کی طرف واپس نہیں لوٹو گے تو ایک ایسی ہلاکت تمہارے سامنے کھڑی دیکھتا ہوں میں ، پیشگوئیوں کے مطابق جو قرآن کریم نے کیں، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کھول کر بیان کیں، جو امت کے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں، ایک ایسی ہلاکت ہوگی کہ زمین کے علاقوں کے علاقے ایسے ہوں گے جن میں زندگی ختم ہو جائے گی۔یہ انتباہ کیا گیا ہے۔یعنی صرف انسان نہیں مارے جائیں گے بلکہ کوئی جانور نہیں رہے گا ، کوئی چرندہ نہیں رہے گا ، کوئی درندہ نہیں رہے گا، کوئی بکٹیریا نہیں رہے گا۔کوئی virus ( وائرس ) کا کیڑا نہیں رہے گا۔زندگی جس کو کہتے ہیں درختوں کی زندگی، دوسری زندگی، زختم ہو جائے گی اور وہ خطے زندگی سے عاری ہو جائیں گے۔اس قسم کی ہلاکت سے ڈرایا مہدی اور مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دنیا کو اور استدلال کیا پہلی زبر دست پیشگوئیوں سے بھی اور انہیں کی تفصیل اور تفسیر میں جو باتیں اللہ تعالیٰ نے انہیں بتا ئیں ان کی روشنی میں پہلی تفسیر کو اس دنیا کے سامنے رکھا۔اندر سے جانتے ہیں کہ ہم خطرے میں ہیں۔جب لنڈن میں میں نے یہ انتباہ کیا تو ایک دوست اپنے بنک کے مینجر کو جو انگریز تھا ( عیسائی یا دہر یہ جو بھی تھا وہ ، بہر حال مسلمان نہیں تھا ) ساتھ لے کر آئے۔رات کے کھانے کے بعد میں نے یہ پیپر پڑھنا تھا وہاں۔وہ مجھے کہنے لگے کہ پہلا فقرہ جب آپ کے منہ سے نکلا تو حیرانگی اور پریشانی میں اس کا منہ یوں کھلا ( کھل جاتا ہے لوگوں کا ) اور پھر سارا وقت کھلا ہی رہا۔کیونکہ فقرے کے بعد فقرہ جو تھاوہ ان کو جھنجھوڑنے والا تھا۔