خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 450
خطبات ناصر جلد نهم ۴۵۰ خطبه جمعه ۱/۲ پریل ۱۹۸۲ء شاگرد ہونے میں فخر سمجھتے ہیں اگر ان کی زندگی میں شاگردی کا موقع انہیں ملا یا ان کی کتابوں کی رٹ لگائے پھرتے ہیں یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اتنے معزز سکالرز جو دنیا میں پیدا ہوئے ہمارا ذہنی تعلق علمی لحاظ سے ان کے ساتھ قائم ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے سب جھوٹ ! اللہ کے سوا کسی اور سے عزت نہیں مل سکتی۔فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا (النساء :۱۴۰) عزت ساری کی ساری، ہر قسم کی ، ہر رنگ کی ، ہر جہت سے اللہ تعالیٰ سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔پوری آیت یوں ہے۔الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَفِرِينَ أَوْلِيَاء مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِینَ ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر اس کی نگاہ میں معزز بن گئے ، انہیں چھوڑ کے اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں اور اس کی عظمتوں کو پہچانتے نہیں اور اس کے دین سے دور رہتے ہیں اور اس کے احکام کو بوجھ سمجھتے ہیں، ان کو اپنا دوست بناتے ہیں۔اس لئے فرمایا کیا وہ ان کے پاس عزت کے خواہاں ہیں ؟ ایبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةُ کیا یہ حرکتیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو خدا سے دوری کی راہوں کو اختیار کرنے والے ہیں ان کی صحبت میں رہ کے یہ دنیا میں عزت پالیں گے؟ نہیں! فَانَ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا اگر ایسا ہے تو وہ یا درکھیں کہ عزت سب کی سب اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔عزت کے سب سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے۔عزت کے حصول کی ساری راہیں اس نے کھولیں۔ان کی طرف اسی نے رہنمائی کی۔حقیقی عزت کی بخشش اسی دربار سے ہوتی ہے۔یہ جو دنیا کی عزتیں ہیں ہمارا مشاہدہ یہ ہے، انسانی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آج جس کو سر پر اٹھا یا کل اسے گالیاں دینی شروع کر دیں۔دولت کو عزت کا سرچشمہ سمجھا خدا تعالیٰ نے دولت چھین لی وہ انسان جب کنگال ہو گیا اسی کی بے عزتی کرنی شروع کر دی۔جہاں سے عزت پارہے تھے اس کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا۔اثر ورسوخ بھی آتا ہے، جاتا ہے۔جب آیا تو گھٹنوں کو ہاتھ لگایا۔جب گیا تو بوٹ کے ٹھڈے مارنے شروع کر دیئے۔حقیقی عزت کہ جب تک انسان اپنی عاجزی اور فروتنی اور اللہ تعالیٰ کی خشیت کے مقام کو نہ چھوڑے، خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور خدا تعالیٰ کی کائنات میں اس کے لئے عزت ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فطرت کا یہ تقاضا صرف میرے دربار سے پورا ہوتا ہے۔یہ جو ہم