خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 451
خطبات ناصر جلد نہم ۴۵۱ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۸۲ء نے فطرت میں رکھا، اللہ ہی نے رکھا یہ کہ انسان عزت کا خواہاں ہو۔قرآن کریم اسی لئے آیا اور قرآن کریم نے دعوی بھی یہ کیا کہ میں اس لئے آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ المومنون میں۔وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمُوتُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ بَلْ آتَيْنَهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُعْرِضُونَ (المؤمنون: ۷۲) اور اگر حق ان کی خواہشات کی اتباع کرتا تو سب آسمان اور زمین اور جوان کے اندر بستے ہیں تباہ ہو جاتے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم انسان کے پاس، ان کے پاس، ان کی عزت کا سامان لے کر آئے ہیں اور وہ اپنی عزت کے سامان سے اعراض کر رہے ہیں اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ عزت کے سامانوں کو ٹھکرا کر کہیں اور سے وہ عزت کو حاصل کر سکتے ہیں۔قرآن کریم سارے کا سارا انسان کے لئے عزت اور شرف کا سامان لے کر آیا۔عزت اور شرف کے متعلق اس نے تاکیدی حکم دیا۔بڑے حسین پیرا یہ میں اس نے انسان کو بتایا کہ انسان کی عزت کر۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جن کے متعلق فرمایا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو کائنات پیدا نہ کی جاتی ، ان کے منہ سے یہ اعلان کیا یعنی الفاظ یہ آئے۔قل اعلان کر دے إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم (الكهف :ااا) انسان ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں۔یہ نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سا تو میں آسمان سے بھی او پر جو رفعت حاصل تھی وہاں سے نیچے لا کر زمینی انسان کے پاس کھڑا کر کے یہ اعلان کیا انما انا بشر مثْلُكُم کہ مجھ میں اور تم میں بشر ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں بلکہ عزت کے لحاظ سے ہر چھوٹے سے چھوٹے انسان کو اٹھا کے اس مقام پہ پہنچایا جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور پھر یہ اعلان کیا کہ مجھ میں اور تم میں عزت انسانی کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے اور قرآن کریم کا یہ اعلان دراصل یہ اعلان ہے کہ عزت خدا تعالیٰ کے احکام کی پیروی کے نتیجہ میں انسان کو ملتی ہے۔انسان انسان میں فرق ہے لیکن ایک ایسی چیز ہے جس میں کسی انسان میں فرق نہیں اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اگر چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قابلیت اور صلاحیت اور استعداد کے لحاظ سے ہر انسان سے بالا کر دیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو یہ صفت ہے کہ آپ کی ساری قابلیتیں اور استعدادیں اپنے کمال نشو ونما کو پہنچیں