خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 446 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 446

خطبات ناصر جلد نهم ۴۴۶ خطبه جمعه ۲۶ / مارچ ۱۹۸۲ء انسان کے ناطے، انسان جس غرض اور مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس غرض اور مقصد کے حصول کے لئے ہر چیز جس کی اسے ضرورت ہے اس ہر چیز کے لئے اسے دعا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اس لئے کہ انسان کو بنیادی طور پر اللہ تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے پیدا کیا گیا۔اس لئے پیدا کیا گیا کہ وہ اس کا بندہ بنے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ الثَّريت : ۵۷) عبد بننے کے لئے پیدا کیا گیا۔عبد بننے کے لئے صرف انسان کو پیدا کیا گیا۔اس کائنات کی بے شمار مخلوق میں سے کسی اور چیز کو عبد بننے کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔ان کی کیفیت يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (النحل: ۵۱) خدا تعالیٰ حکم دیتا چلا جاتا ہے وہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ان کو نافرمانی کی طاقت بھی نہیں ملی۔اس کا احساس بھی نہیں کیونکہ وہ کرتے ہی نہیں لیکن چونکہ انسان ایک بلند مقصد کے لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ خدا کا عبد بنے اور اس کے پیار کو حاصل کرے اس لئے صرف انسان کے ساتھ یہ لگایا کہ دعا کرو، ملے گا۔دعا نہیں کرو گے نہیں ملے گا یعنی عبد بننے کے لئے اپنی انسانی زندگی میں کامیابی کے لئے ، خدا تعالیٰ کے پیار کے حصول کے لئے، خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور پیار دیکھنے کے لئے، خدا تعالیٰ کا محبوب بننے کے لئے بے شمار عمل کرنے پڑتے ہیں جنہیں اسلامی اصطلاح میں اعمالِ صالحہ کہا جاتا ہے۔انسانی زندگی کا ہر فعل اسی غرض کے لئے ہونا چاہیے اور انسانی زندگی کے ہر فعل کو کامیابی حاصل کرنے کے لئے دعا کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو فرما یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ اعلان ہوا۔مَا يَعْبُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان:۷۸) عربی زبان میں يَعْبُوا کے کیا معنی ہیں۔اس کے معنی ہمیں بتائیں گے کہ خدا تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔منجد ایک چھوٹی کتاب ہے لغت کی اُس نے تو یہ لکھا ہے:۔لَا أَعْبَأُ بِهِ أَن لَا أَبَالِي بِه اختقارًا که حقارت کے نتیجہ میں جو یعنی خدا کہتا ہے کہ میرے اندر تمہارے لئے تحقیر پیدا ہوگی اور میں تمہاری پرواہ نہیں کروں گا اگر تم دعا نہیں کرو گے۔مفردات نے اس کے یہ معنی کئے ہیں مَا عَبَأْتُ بِهِ أَيْ لَمْ أَبَالِ بِهِ كَانَهُ قَالَ یعنی آپ کہتے ہیں کہ گویا خدا نے یہ اعلان کیا مَا أَرى لَهُ وَزْنَا وَ قَدْرًا کوئی قدر میرے دل میں ایسے بندہ